ترکی میں 6.8 شدت کا زلزلہ، 22 افراد ہلاک، پاکستان کا اظہار افسوس

اپ ڈیٹ 25 جنوری 2020

ای میل

ترک وزیر ماحولیات کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں  تقریباً 30 عمارتیں گر کر تباہ ہوئیں—تصویر: اے ایف پی
ترک وزیر ماحولیات کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً 30 عمارتیں گر کر تباہ ہوئیں—تصویر: اے ایف پی

ترکی کے مشرقی حصے میں آنے والے 6.8 شدت کے طاقتور زلزلے سے 22 افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ ریسکیو ٹیمز تباہ حال عمارتوں کے ملبے میں پھنسے افراد کو نکالنے کی کوشش کررہی ہیں۔

ترک خبررساں ادارے انادولو نیوز کی رپورٹ کے مطابق کے مطابق ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی منیجمنٹ پریزیڈینسی (اے ایف اے ڈی) نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کردی۔

قبل ازیں اے ایف اے ڈی کا کہنا تھا کہ 922 افراد زخمی ہوئے، جس میں الازیع میں 560، ملاٹیا میں 226، خمرامانمراس میں 37، سانیفا میں 34، دیاربکر میں 34، ادیامان میں 25 اور بیٹ مین شہر میں 6 افراد زخمی ہوئے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں اے ایف ڈی اے کے حوالے سے بتایا گیا کہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 55 منٹ پر آیا، جہاں اس کی شدت 6.8 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کے بعد 5.1اور 5.4 شدت کے آفٹر شاکس بھی ریکارڈ کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی میں 5.8 شدت کا زلزلہ، لوگوں میں خوف و ہراس

زلزلے کے بعد لوگ بدحواس ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے اور سرد ترین موسم میں خود کو گرم رکھنے کے لیے سڑکوں پر آگ جلا کر بیٹھے رہے، علاوہ ازیں جو لوگ اپنے گھروں میں واپس جانے سے خوف زدہ تھے انہیں طالبعلموں کے ہاسٹلز اور اسپورٹس سینٹر منتقل کردیا گیا۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے افراد کی امداد کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور ’ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔

ترک نشریاتی ادارے این ٹی وی کے مطابق مشرقی ترکی میں عراق اور شامی سرحد کے قریبی علاقوں کے علاوہ کئی صوبوں میں زلزلہ محسوس کیا گیا اور اطراف کے شہروں نے زلزلے کے متاثرہ مقامات پر ریسکیو ٹیمز روانہ کردی گئیں۔

مزید پڑھیں: ترکی میں 5.5 شدت کا زلزلہ، متعدد گھروں کو نقصان

ادھر امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق ترکی 2 بہت بڑی فالٹ لائنز پر قائم ہے اور وہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔

1999 میں ترکی کے شمال مغربی علاقے میں 7.4 شدت کے زلزلے میں 18ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2010 میں الازیع میں آنے والا زلزلہ 51 افراد کی ہلاکت کا سبب بنا تھا۔

علاوہ ازیں ترک وزیر ماحولیات کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً 30 عمارتیں گر کر تباہ ہوئیں۔

ترک وزیر دفاع ہولوسی اکر نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے لیے اگر ضرورت پڑی تو فوج شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال یہ ترکی میں آنے والا پہلا زلزلہ نہیں، اس سے قبل 22 جنوری کو مغربی صوبے مانیسا میں 5.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا جبکہ اس کے ایک روز بعد ہی ترک دارالحکومت انقرہ 4.5 شدت کے زلزلے سے لرز اٹھا تھا۔

وزیراعظم اور آرمی چیف کا اظہار افسوس

ترکی میں آنے والے زلزلے پر وزیراعظم عمران خان نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان ترکی کے ساتھ کھڑا ہے۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ترکی میں زلزلے کے نتیجے میں بے شمار قیمتی جانوں کے ضیاع اور سیکڑوں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات باعثِ رنج ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری دعائیں اور ہمدردیاں اپنے ترک بھائیوں اور ترک حکومت کے ساتھ ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے اور جو مدد بھی درکار ہو بہم پہنچانے کے لیے تیار ہیں‘۔

علاوہ ازیں چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ترکی میں زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کی ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری بیان کے مطابق حکومت کی جانب سے مدد کی پیشکش پر پاک فوج کے دستے جن میں اسپیشل ریسکیو اور ریلیف ٹیمز اور طبی سہولیات تیار ہیں۔