پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے سفارتی کوششوں کی ضرورت

اپ ڈیٹ 25 جنوری 2020

ای میل

ایف اے ٹی ایف نے جون 2018 میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا — فائل فوٹو: ایف اے ٹی ایف ویب سائٹ
ایف اے ٹی ایف نے جون 2018 میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا — فائل فوٹو: ایف اے ٹی ایف ویب سائٹ

اسلام آباد: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستانی حکام کو ٹھوس سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔

وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں 18 رکنی وفد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے علاقائی طور پر منسلک ایشیا پیسیفک گروپ( اے پی جی) کے ساتھ بیجنگ میں 3 روزہ اجلاس کے بعد پاکستان پہنچ گیا ہے۔

حماد اظہر اور دیگر سینئر حکام منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت سے متعلق وزیراعظم عمران خان اور نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی (این ای سی) کو بریفنگ دیں گے اور ایف اے ٹی ایف کے 39 رکن ممالک کے لیے موثر سفارتی مشن کے لیے زور دیں گے۔

اس حوالے سے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس وقت یقین کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ مشترکہ ورکنگ گروپ نے اپنی پوزیشن کا حتمی فیصلہ کرنے کے لیے علیحدہ ملاقات نہیں کی۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف: عالمی برادری کو پاکستان کی کاوشوں کو تسلیم کرنا چاہیے، چین

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ابھی کسی چیز سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا لیکن وفد نے گروپ کے اراکین کو مطمئن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور پاکستان کا کیس موثر طریقے سے پیش کیا‘۔

ایک اور عہدیدار نے کہا کہ مشترکہ ورکنگ گروپ کے اراکین نے 27 نکاتی ایکشن پلان کے اکثر نکات پر تسلی بخش پیش رفت سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ ورکنگ گروپ ان تمام 39 رکن ممالک کو اپنی رپورٹ بھیجنے کے لیے یکم فروری تک اسے حتمی شکل دے گا جو 16 سے 21 فروری کے درمیان پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف اور مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ لہٰذا ہمیں ان کی جانب سے اعلان کا انتظار کرنے دیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے کسی سرکاری بیان پر حساسیت موجود ہے لیکن غیر معمولی طور پر بھارتی میڈیا رپورٹ کررہا ہے کہ بیجنگ اجلاس کے بعد ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام خارج کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو اصولاً ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر آنا چاہیے، وزیرخارجہ

بھارتی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ بڑی طاقتوں جیسا کہ امریکا، برطانیہ، جاپان، آسٹریلیا، چین اور نیوزی لینڈ نے پاکستان کی کارکردگی سے متعلق کوئی منفی تبصرہ نہیں کیا جس سے عندیہ ملتا ہے کہ پاکستان نے ایک مضبوط کیس پیش کیا۔

ادھر ذرائع کا کہنا تھا کہ بیجنگ اجلاس میں ادارہ جاتی کارکردگی، قانون سازی، خطرے کی تشخیص، بین الایجنسی تعاون کی بنیاد پر 6 سو 50 صفحات کا مضبوط کیس پیش کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہی بریفنگ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سفرا اور خصوصی مندوبین کی جانب سے سیاسی زاویوں کے بغیر پیشہ ورانہ کارکردگی کی بنیاد پر زور دینے کے لیے ایف اے ٹی ایف کے 39 رکن ممالک کی حکومتوں کو بھی دی جائے گی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مشترکہ ورکنگ گروپ کو 14 یا 15 ممالک پر خصوصی بریفنگ بھی دی گئی تھی جن میں پاکستان کے مقابلے میں انسداد منی لانڈرنگ کی خراب صورتحال اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے انتظامات موجود ہیں لیکن وہ کسی گرے یا بلیک لسٹ میں شامل نہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان فروری 2020 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رہے گا

خیال رہے کہ 16 سے 21 فروری کے اجلاس میں اے پی جی اور ایف اے ٹی ایف نظرثانی کے لیے پاکستان کا کیس پیش کریں گے، پاکستان کو اپنا دفاع کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا کیونکہ یہ عمل تقریباً مکمل ہے۔

بہرحال پاکستان سے ایک وفد ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں شرکت کرے گا۔

یہاں یہ مدنظر رہے کہ ایک روز قبل چین نے عوامی سطح پر پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خلاف نظام کو مضبوط بنانے میں واضح پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا تھا اور عالمی برداری سے اس کی کارکردگی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے جون 2018 میں پاکستان کو انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خلاف ’ اسٹریٹیجیک کمی‘ کے بعد گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔

بھارت نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کا کہا تھا جس کی حمایت امریکا، برطانیہ اور کچھ یورپی ممالک نے کی تھی۔


یہ خبر 25 جنوری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی