پاکستان کو اصولاً ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر آنا چاہیے، وزیرخارجہ

اپ ڈیٹ 25 جنوری 2020

ای میل

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ملتان میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے—فوٹو:ڈان نیوز
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ملتان میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے—فوٹو:ڈان نیوز

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں جس طرح ہمارے اقدامات کو سراہا گیا ہے اس کے مطابق اصولاً پاکستان کا نام گرے لسٹ سے باہر آنا چاہیے۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ‘ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ بیجنگ میں ایف اے ٹی ایف کا براہ راست اجلاس ہورہا تھا وہاں پاکستان نے اپنا نقطہ نظر پیش اور ہم نے پچھلے 10 ماہ میں جو عملی اقدامات اٹھائے تھے وہ رکن ممالک کے سامنے رکھے’۔

ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ہماری جو سیاسی ذمہ داری تھی اور ایکشن پلان پر پیش رفت کرنا تھی وہ سب ہم نے ان کے سامنے رکھی اور مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ اس کو سراہا گیا، سب نے تعریف کی اور کہا کہ پچھلے 10 برسوں میں جو نہیں ہوا تھا وہ پچھلے 10 ماہ میں آپ نے عملی طور پر کرکے دکھایا ہے’۔

مزید پڑھیں:ایف اے ٹی ایف: عالمی برادری کو پاکستان کی کاوشوں کو تسلیم کرنا چاہیے، چین

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ‘یہ پاکستان کے لیے ایک اور مثبت قدم تھا، ماسوائے بھارت کے جو ہرگز نہیں چاہتا کہ پاکستان گرے لسٹ سے باہر آئے، بلکہ ان کی تو کوشش یہ ہے کہ پاکستان بلیک لسٹ میں دھکیل دیا جائے، ماسوائے ان کے سب لوگوں نے سراہا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں امید رکھتا ہو ں کہ اس پیش رفت کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان کے اقدامات کے اعتراف کے طور پر پیرس میں فروری میں جو اجلاس ہونا ہے، میں امید کرتا ہوں میرٹ پر ایک ٹیکنیکل ایشو ہے اور ٹیکنیکل بنیادوں پر ہم نے جو پیش رفت کی ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے اس معاملے کو سیاسی نہیں ہونے دیں گے جو کہ ایک ادھ ملک کی کوشش ہے کہ اس معاملے کو سیاسی بنایا جائے، اگر ایسا ہوجاتا ہے تو یہ بھی پاکستان کے لیے خوش آئند بات ہوگی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ڈیووس میں وزیراعظم عمران خان کی جس طرح پذیرائی ہوئی اور ملاقاتیں ہوئیں اس سے بین الاقوامی سطح پر تصویر بہتر ہوتا جارہا ہے اور اس کے برعکس اکنامسٹ میں تنگ نظر بھارت کی خبر شائع ہوئی ہے’۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ‘جہاں پاکستان کا امیج بین الاقوامی سطح پر بہتر ہورہا ہے وہاں بھارت دباؤ میں آرہا ہے، ابھی سلامتی کونسل نے ایک مرتبہ پھر مقبوضہ جموں و کشمیر پر بحث کی پاکستان جو کہتا چلا آرہا ہے اس کی تصدیق کی ہے’۔

ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘اگر تو میرٹ پر دیکھا جائے اور پاکستان کو جس قسم کی پذیرائی ملی اور اقدامات کو جس انداز میں سراہا گیا ہے تو اصولاً پاکستان کو باہر آنا چاہیے’۔

مزید پڑھیں:وزیر اعظم نے امریکی صدر کو 'ایف اے ٹی ایف' کے معاملے پر قائل کرلیا، شاہ محمود

یاد رہے کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان ایف اے ٹی ایف اور پاکستان کے لیے امریکی سفری ہدایت نامے میں تبدیلی لانے کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کو ٹھوس قرار دیتے ہوئے انہیں تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وزیر خزانہ اور باقی 20 افراد کی موجودگی میں کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں جنہیں تسلیم کیا جانا چاہیے اور امریکا کو پاکستان کی حمایت کرنی چاہیے۔‘

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس 21 جنوری سے 23 جنوری تک 3 روزہ اجلاس میں وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کے وفد نے پاکستان کی جانب سے پیش رفت رپورٹ پیش کی تھی

بعد ازاں چین نے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے واضح پیش رفت کے ساتھ اپنا ملکی انسداد مالیاتی دہشت گردی نظام مضبوط بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دہشت گردی کی مالی معاونت سے موثر انداز میں نمٹنے اور انسداد مالیاتی دہشت گردی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کی تعمیری حمایت کی جائے گی۔

ترجمان چینی وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ چین ایف اے ٹی ایف کے صدر اور ایشیا پیسفک جوائنٹ گروپ کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے چین بامقصد، تعمیری اور منصفانہ رویے کو برقرار رکھے گا اور متعلقہ بات چیت میں حصہ لے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں پیرس میں منعقدہ ایف اے ٹی ایف اجلاس کے اختتام پر ٹاسک فورس کے صدر شیانگ من لو نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ کہ پاکستان کو مزید 4 ماہ کے لیے گرے فہرست میں رکھا جائے گا۔

ایف اے ٹی ایف کے بیان کے مطابق 'اسلام آباد کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرے'۔

پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے اقدامات پر فروری 2020 میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اگر اس نے آئندہ اجلاس تک اپنے ایکشن پر مکمل طریقے سے موثر اور نمایاں پیش رفت نہ کی تو ایف اے ٹی ایف کارروائی کرے گا۔

'سفری پابندیوں میں نرمی خوش آئند ہے'

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانیہ کی جانب سے سفری پابندیوں میں نرمی کو ملکی معیشت اور سیاحت کے لیے خوش آئند قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ اچھی شروعات ہیں، اس سے روزگار اور سیاحت کے مواقع پیدا ہوں گے، جاپان نے بھی کیا اور اقوام متحدہ نے خود پاکستان کی صورت حال کو دیکھ کر دوبارہ فیملی اسٹیشن قرار دیا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہ پاکستان پر، پاکستان کی سیکیورٹی کی صورت حال پر پاکستان کی معیشت پر اعتماد کا اظہار ہے جو انہوں نے کیا ہے، اور مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید ممالک اس کی تقلید کریں گے اور سفری ہدایات پر نظر ثانی کریں گے جس سے ملک کو فائدہ ہوگا’۔

یہ بھی پڑھیں:برطانیہ نے پاکستان کیلئے سفری شرائط میں نرمی کردی

قبل ازیں اسلام آباد میں قائم برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ‘برطانیہ نے آج سفری ہدایات تبدیل کردی ہے جو پاکستان میں سیکیورٹی کی صورت حال کی بہتری کا عکس ہے’۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘یہ اعلان برطانیہ کا پاکستان کے لیے سفری ہدایات کے تفصیلی جائزے کا نتیجہ ہے جو ملک میں سیکیورٹی صورت حال کا وسیع جائزے کی بنیاد پر کیا گیا’۔

برطانوی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ‘2015 کے بعد یہ پہلی اہم پیش رفت ہے’۔

پاکستان کے مختلف سیاحتی مقامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تبدیلیوں سے برطانوی شہریوں کو پاکستان کے شمالی علاقہ جات بشمول کیلاش اور بمبورت وادیوں تک بذریعہ سڑک جانے کی اجازت ہو گی’۔

پاکستان کے لیے برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچین ٹرنر کا کہنا تھا کہ ‘دسمبر2019 میں پاکستان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سفری ہدایات کا جائزہ ترجیحی بنیادوں پر لیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ حکومتِ پاکستان کی گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امن و امان کو بہتر کرنے کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے’۔

برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ ‘مجھے خوشی ہے کہ اب برطانیہ کے شہری پاکستان میں خوبصورت سیاحتی مقامات سے زیادہ لطف اندوز ہوسکیں گے’۔