پاکستانی صحافیوں کو ذہنی مسائل سے چھٹکارہ کون دلائے گا؟

جنوری 28 2020

ای میل

بی بی سی افریقہ کے ایڈیٹر فرگل کین نے اپنے عہدے سے استعفے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ شدید ذہنی صدمے (Post-Traumatic Stress Disorder - PTSD) کا شکار ہیں اور اس مسئلے کو دُور کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب سے شاید وہ مصیبت زدہ علاقوں، تباہ کاریوں، جنگوں اور بدامنی کی صورتحال کو کور نہیں کرپائیں گے۔

یہ آئرش باشندے برطانوی نیوز ٹی وی پر سب سے زیادہ جانے پہنچانے اور محترم افراد میں سے ایک مانے جاتے ہیں، جنہوں نے قریب 3 دہائیوں تک روانڈا میں ہونے والی نسل کشی، عراقی جنگ، شامی اور افغان خانہ جنگی اور کانگو میں ایبولا وائرس کے نقصانات کی رپورٹنگ کے لیے دنیا کے مختلف حصوں میں انتہائی خطرناک حالات سے نبردآزما علاقوں کا رخ کیا۔

بین الاقوامی صحافیوں کی جو قیمتی ترین قسم ہے، فرگل ان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے چند ساتھی جنہیں ہم ازراہِ تفنن بے خبر پیرا شوٹس پکارتے ہیں، وہ حساس حالات میں کود تو جاتے ہیں لیکن معاملات کی باریکیوں کو گہرائی سے سمجھے بغیر ٹی وی پر ’مستند‘ معلوماتی ذریعہ بن کر حالات پر تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں۔

تاہم فرگل اس قسم کے صحافیوں کی درجہ بندی میں قطعاً شمار نہیں کیے جاسکتے۔ لندن میں خبروں کے بھوکے درجنوں ایڈیٹر حضرات کے مطالبوں کی زد میں آنے سے پہلے ہی وہ کسی بھی خبر کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور رپورٹنگ سے قبل معاملے کی شدت محسوس کرنا چاہتے تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کہنا آسان اور کرنا نہایت مشکل ہے۔ بی سی سی کا ایک نامہ نگار جسے دنیا کے دوسرے کونے میں بھیجا جاتا ہے، وہ مقررہ وقت سے پہلے کڑی سے کڑی محنت کرنے میں جٹا رہتا ہے جبکہ درجنوں دیگر ادارے انہیں سننے کا انتظار کررہے ہوتے ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ وہ ہمیشہ پہلے خود پورے معاملے کو سمجھتے ہیں اور پھر بہتر انداز میں سمجھانے کے قابل ہوتے ہیں، جو یقینی طور پر خبر جاننے والوں کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔ زیادہ تر ’اسٹار‘ رپورٹر یا پریزنٹر غرور و تکبر کا شکار بن جاتے ہیں جو ان کے لیے مفید ثابت ہونے کے بجائے اکثر اوقات ان کے سیکھنے کے عمل میں رکاوٹ بنتا ہے، تاہم لوگوں کو قائل کرنے کے فن سے متعلق خداداد صلاحیت اور اعتماد کی بدولت وہ اپنی بات منوانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

فرگل کی بات الگ تھی۔ ان کی شخصیت میں غرور و تکبر کا کہیں کوئی آثار نہیں آیا بلکہ وہ کسی بچے کی طرح ہر وقت سیکھنے کی تگ و دو میں لگے رہتے تھے۔ مزے کی بات ہے کہ جب میں بی سی سی سے منسلک تھا ان دنوں لندن میں ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوپائی بلکہ میری ان سے پہلی ملاقات دبئی ایئرپورٹ میں اماراتی ایئر لائن کے لاؤنج میں ہوئی تھی۔ وہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے آئے تھے اور میں گیٹ وک ایئرپورٹ سے وہاں آیا تھا۔

ہم دونوں کے علاوہ وہاں اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ خوبیوں کے مالک فرگل کے پروڈیوسر پینی رچرڈز بھی موجود تھے جو آگے چل کر میرے محبوب دوست بنے اور جنوبی ایشیا کے بیورو چیف بھی۔ ہم تینوں اسلام آباد جانے والی پرواز کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ ملاقات 9/11 کے بعد ہوئی تھی اور ایک دن پہلے ہی امریکا نے افغانستان پر فضائی حملے شروع کردیے تھے۔

نیند میں ڈوبے ہوئے فرگل اچانک اٹھ کر بیٹھ گئے۔ پاکستان اور افغانستان کے بارے میں ہر قسم کی معلومات، رائے، خیالات اور تجزیے یعنی اس موضوع سے منسلک میرے ذہن میں جو بھی باتیں تھیں اسے انہوں نے اپنے پاس محفوظ کرنا شروع کردیا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں پورے دھیان سے ان سارے رابطوں کو درج کرلیا جو میں انہیں دے سکتا تھا۔ ہم نے بعدازاں دورانِ پرواز بھی کافی باتیں کیں۔

اسلام آباد پہنچنے کے بعد ہم ایک دوسرے سے جدا ہوگئے کیونکہ فرگل اور پینی کو کوئٹہ کی پرواز پکڑنی تھی جبکہ مجھے اسلام آباد میں ہی اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دینے تھے۔ فرگل بی بی سی کے وہ پہلے ایسے رپورٹر تھے جس نے افغانستان کے اندر کی تصوریں پوری دنیا کو دکھائی تھیں۔

بی بی سی سے منسلک نڈر ہارون رشید چپکے چپکے وہاں گئے تھے اور قندھار کے قریب متاثرینِ جنگ کے قائم کیمپ کی چند بہترین تصاویر کھینچ کر آئے تھے۔ فرگل نے ان تصاویر کو استعمال کیا اور ہارون رشید کو ان کے کام کا کریڈٹ دینے میں ذرا بھی کنجوسی نہیں کی۔ یہ خوبی بھی بی سی سی کے کسی ایسے اسٹار میں شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے جو کسی پر بھی غالب آنے کی طاقت رکھتا ہے۔

یہ بات اس دن سے بہت پرانی ہے جب بی بی سی کے ایک اور معروف صحافی جان سمپسن نے براہِ راست نشریات میں یہ اعلان کیا تھا کہ افغانستان کو ’ہم نے آزاد کرالیا ہے‘۔ اور کہیں کا تو معلوم نہیں، لیکن نشریاتی ادارے کے اندر وہ ضروری ایک مذاق بن کر رہ گئے تھے۔ فرگل کین کی رپورٹنگ باعلم تھی اور بلند وقار کی حامل تھی۔ ان کی رپورٹنگ میں زبردست داستان گوئی نظر آتی تھی۔ وہ حالات کا تجربہ کرنے کے بعد خبر دیگر لوگوں تک پہنچاتے تھے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

فرگل کے فیصلوں پر بی بی سی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’خبروں اور پیشہ ورانہ طبّی مشورے کے حصول میں اس پورے وقت میں دوستوں اور ساتھیوں نے کافی ساتھ دیا۔ تاہم، وہ اب وہ سمجھتے ہیں کہ اس ذہنی مسئلے سے جلدی نجات پانے کے لیے اپنے پیشہ ورانہ کردار کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک بہت ہی بہادری اور خوش آئند بات ہے کہ انہوں نے پی ٹی ایس ڈی پر کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

گارجین نے برطانوی نشریاتی ادارے کا بیان نقل کیا ہے جس میں کین کی ’بصیرت، تجربے اور تفکر‘ کی تعریف شامل تھی، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ مذکورہ صحافی اور بی بی سی کے درمیان ایک ایسے نئے کردار کو لے کر باتیں چل رہی تھیں جس کے تحت ’انہیں حقیقی اور دلچسپ اور پُرجوش صحافتی کام انجام دے سکیں۔ وہ برطانیہ سمیت دنیا میں ابھرتے ٹیلنٹ کی رہنمائی اور تربیت بھی فراہم کرتے رہیں گے‘۔

مجھے یہاں میرے ساتھ کام کرنے والے مارک برین بھی یاد آتے ہیں، جب وہ 1985ء میں بیجنگ میں ہونے والے تیانانمن اسکوائر قتلِ عام کو کور کرتے وقت شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوئے تھے۔ پھر اس کے بعد انہوں نے سب سے پہلے رپورٹرز کے لیے پی ٹی ایس ڈی سے چھٹکارہ دلانے کا معاملہ اٹھایا۔ مجھے اس مسئلے کے بارے میں 1990ء کی دہائی میں بی بی سی سے جڑنے کے بعد پتا چلا۔

اور اب ہم سال 2020ء میں داخل ہوچکے ہیں۔ ہمارے ہاں جن صحافیوں نے مارپیٹ سہی ہے، اغوا ہوئے ہیں اور اپنے ساتھیوں کی بدترین اموات دیکھی ہیں اور ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے مسلسل خطرے کی زد میں رہتے ہیں ان میں سے چند ہی کسی قسم کی کونسلنگ یا پی ٹی ایس ڈی سے مدد حاصل کرسکے ہیں یا پھر یوں کہیے کہ وہ مدد حاصل کرنے پر مجبور ہوگئے۔

حد تو یہ ہے کہ عالمی خبر رساں اداروں کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو چھوڑ کر جن مقامی صحافیوں نے بدترین دہشتگردی کے واقعات کو کور کیا ان کے پاس حفاظتی ساز و سامان بھی میّسر نہیں ہوتا تھا۔

یہ مانا کہ آج کل چند صحافی صحافیوں کا کردار ادا کرنے کے بجائے اقتداری سیاست میں کھلاڑیوں، حتیٰ کہ مہروں کا کردار نبھاتے نظر آتے ہیں، مگر ایسے چند صحافیوں کے مقابلے میں ان مرد و خواتین میڈیا کارکنان کی تعداد بہت زیادہ ہے جو مطلوبہ پیشہ ورانہ عزم کے ساتھ اپنا کام انجام دیتے ہیں اور چاہے دہشتگردی کے واقعات ہوں یا پھر کسی بحران کے بعد اَن کہے دباؤ ہو، جس کی ایک مثال ریاست کا پیدا کردہ بحران ’ڈان لیکس‘ بھی ہے۔ تاہم ایڈیٹر سے لے کر خطرناک ماحول رپورٹنگ کرنے والے رپورٹرز اور ان تمام صحافیوں کو حادثے کے بعد پہنچنے والے صدمے سے پیدا ہونے والے دباؤ سے چھٹکارے کے لیے مدد حاصل کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

معاشی مندی کے دوران معاوضوں کی عدم ادائیگی یا تنخواہوں میں کٹوتیوں سے پیدا ہونے والے دباؤ یا صدمے پر تو کوئی بات نہیں کرتا جبکہ میڈیا پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ریاست کے مختلف ہتھکنڈے اور میڈیا کارکنان پر اس کے اثرات نے صحافیوں کے لیے حالات مزید بدتر بنادیے ہیں۔

کراچی میں میرے سابق ساتھی صحافی اور قریبی دوست کمال صدیقی کی سرپرستی میں کام کرنے والا انسٹی ٹیوٹ آف ایکسی لینس ان جرنلزم نامی ادارہ میڈیا اداروں سے منسلک افراد کو کسی حد تک کونسلنگ فراہم کر رہا ہے لیکن میڈیا مالکان اور صحافیوں کی تنظیموں کو بھی ایسے کاموں کے لیے آگے آنا چاہیے۔

ہمارے ہاں بھی فرگل کین جیسے بہت سے صحافی ہیں اور ہمیں ان کو تحفظ کے ساتھ بہتر انداز میں مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔


یہ مضمون 26 جنوری 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔