اسلام آباد: پی ٹی ایم رہنما محسن داوڑ سمیت 15 مظاہرین گرفتار

ای میل

محسن داوڑ نے مذکورہ پیش رفت سے متعلق تصدیق بھی کی —فوٹو: انعام اللہ خٹک
محسن داوڑ نے مذکورہ پیش رفت سے متعلق تصدیق بھی کی —فوٹو: انعام اللہ خٹک

اسلام آباد میں پولیس نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے رہنماؤں اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو گرفتار کر لیا۔

کوہسار تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) اختر علی نے بتایا کہ پی ٹی ایم کے رہنماؤں اور ایم این اے کو تحویل میں لیا گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی ایم کا منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا اعلان

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی ایم کے 15 کارکنوں اور محسن داوڑ کو اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے باہر سے گرفتار کیا گیا۔

اختر علی نے بتایا کہ مظاہرین پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ نیشنل پریس کلب کے باہر مظاہرے میں پی ٹی ایم رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ احتجاج میں سیاستدان افراسیاب خٹک اور بشریٰ گوہر بھی شامل تھے۔

علاوہ ازیں محسن داوڑ نے مذکورہ پیش رفت سے متعلق تصدیق بھی کی۔

انہوں نے ڈان نیوز کو بتایا کہ 'ہم پولیس تحویل میں ہیں اور ہمیں کوہسار پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی ایم کا بنوں میں جلسہ، پختون رہنماؤں سے اتحاد کا مطالبہ

ان گرفتاریوں کی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم ایک پولیس عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان نیوز کو بتایا کہ مظاہرین کو اعلیٰ حکام کے احکامات پر گرفتار کیا گیا۔

ٹویٹر پر بی بی سی کے نامہ نگار سکندر کرمانی نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں پولیس پی ٹی ایم رہنماؤں کو گرفتار کررہی ہے۔

علاوہ ازیں میر علی، ٹانک، میرانشاہ اور ژوب سمیت مختلف علاقوں میں بھی پی ٹی ایم سربراہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

پشاور میں پی ٹی ایم کارکنان نے پریس کلب کے باہر جمع ہوکر منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب کراچی پریس کلب کے باہر بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور اس میں پی ٹی ایم کے حامیوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے بھی شرکت کی۔

منظور پشتین کی گرفتاری

واضح رہے کہ منظور پشتین کو گزشتہ روز پشاور کے شاہین ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا اور انہیں 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر شہر کی سینٹرل جیل بھیج دیا گیا۔

انہیں آج مقامی عدالت کے حکم پر ڈیرہ اسمٰعیل خان منتقل کردیا گیا۔

پولیس کے مطابق 18 جنوری کو ڈیرہ اسمٰعیل خان میں سٹی پولیس تھانے میں پی ٹی ایم کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 506 (مجرمانہ دھمکیوں کے لیے سزا)، 153 اے (مختلف گروہوں کے درمیان نفرت کا فروغ)، 120 بی (مجرمانہ سازش کی سزا)، 124 (بغاوت) اور 123 اے (ملک کے قیام کی مذمت اور اس کے وقار کو تباہ کرنے کی حمایت) کے تحت درج کیا گیا۔

مزید پڑھیں: 'اب وقت ختم ہوا'، پاک فوج کی پی ٹی ایم رہنماؤں کو تنبیہ

ڈان ڈاٹ کام کو دستیاب ایف آئی آر کی نقل کے مطابق 18 جنوری کو ڈیرہ اسمٰعیل خان میں منظور پشتین اور دیگر پی ٹی ایم رہنماؤں نے ایک جلسے میں شرکت کی جہاں پی ٹی ایم سربراہ نے مبینہ طور پر کہا کہ 1973 کا آئین بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی۔

ایف آئی آر کے مطابق منظور پشتین نے ریاست سے متعلق مزید توہین آمیز الفاظ بھی استعمال کیے۔

دوسری جانب پی ٹی ایم کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں کہا کہ 'یہ پرامن اور جمہوری طریقے سے اپنے حقوق مانگنے کے لیے ہماری سزا ہے، منظور پشتین کی گرفتاری سے ہمارے عزم کو تقویت ملے گی، (لہٰذا) ہم منظور پشتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں'

پشتون تحفظ موومنٹ

واضح رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ ایسا اتحاد ہے جو سابق قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کے خاتمے کے مطالبے کے علاوہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کے خاتمے پر زور دیتا ہے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف ایک سچے اور مفاہمتی فریم ورک کے تحت ان کے محاسبے کا مطالبہ کرتا ہے۔

پی ٹی ایم ملک کے ان قبائلی علاقوں میں فوج کی پالیسیوں کی ناقد ہے، جہاں حالیہ عرصے میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا تھا۔

مزیدپڑھیں: پی ٹی ایم رہنما کے شمالی وزیرستان داخلے پر پابندی

تاہم پی ٹی ایم کے رہنما خاص طور پر اس کے قومی اسمبلی کے اراکین بغیر کسی عمل کے انتظامیہ کی جانب سے حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کے لیے فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، تاہم پاک فوج کا کہنا کہ یہ پارٹی ملک دشمن ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور ریاست کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس پی ٹی ایم کے دو رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو پولیس نے خرقمر میں مظاہرے کے دوران مبینہ طور پر فوجی اہلکاروں سے تصادم اور تشدد پر گرفتار کیا تھا۔

پی ٹی ایم کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ملک کے قبائلی علاقوں کے عوام کے لیے ان کی پرامن جدوجہد ہے۔