سندھ ہائی کورٹ میں آئی جی سندھ کا تبادلہ روکنے کی درخواست خارج

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020

ای میل

عدالت نے اپنے پہلے حکم میں آئی جی کو ہٹانے سے روک دیا تھا—تصویر: ڈان نیوز
عدالت نے اپنے پہلے حکم میں آئی جی کو ہٹانے سے روک دیا تھا—تصویر: ڈان نیوز

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ کلیم امام کو عہدے سے ہٹانے کے خلاف حکم امتناع کی درخواست خارج کردی۔

ہائی کورٹ نے درخواست صوبائی افسر کی جانب سے یہ بیان جمع کروانے پر خارج کی کہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئی جی پی کو ہٹانے کا کوئی اقدام نہیں اٹھایا جائے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 10 جنوری کو سندھ ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم کے ذریعے صوبائی حکام کو وفاق سے مشاورت کیے بغیر آئی جی پی کو عہدے سے ہٹانے سے روک دیا تھا۔

چنانچہ منگل کے روز جب یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں قائم 2 رکنی بینچ کے سامنے آیا تو ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین عدالت میں پیش ہوئے اور واضح بیان جمع کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے آئی جی کلیم امام کو ہٹانے سے روک دیا

بینچ نے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست گزار کے وکلا کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد عبوری حکم جاری کیا گیا تھا۔

عدالت نے مزید کہا کہ ’آج (منگل کو) ایڈووکیٹ جنرل سندھ سماعت میں پیش ہوئے اور واضح بیان دیا کہ سندھ (ری اپیل آف پولیس ایکٹ، 1981 اینڈ ریوائیول آف پولیس آرڈر 2002) (ترمیمی) ایکٹ، 2019 کی دفعہ 12(2) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل کو عہدے سے ہٹانے کا کوئی اقدام نہیں کیا جائے گا‘۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے اس بیان کی روشنی میں حکم امتناع کی درخواست اس ہدایت کے ساتھ خارج کی جارہی ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکام کی جانب سے آرٹیکل 12(2) کی خلاف ورزی میں کوئی قدم نہ اٹھایا جائے‘۔

مزید پڑھیں:میرے خلاف بڑی سازش ہوئی ہے، آئی جی سندھ کلیم امام

یاد رہے کہ سماجی کارکن جبران ناصر اور دیگر کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے آرٹیکل 12(2) کے نفاذ کی استدعا کی گئی تھی۔

جس پر عدالت نے وفاقی حکومت کا جواب آنے تک سندھ حکومت کو آئی جی کلیم امام کو ہٹانے سے روک دیا تھا۔

آئی جی سندھ کے تبادلے کا معاملہ

واضح رہے کہ آئی جی سندھ کلیم امام کے معاملے پر وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تناؤ جاری ہے اور آئی جی سندھ پر اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سندھ کابینہ نے 15 جنوری 2020 کو انہیں عہدے سے ہٹانے اور ان کی خدمات وفاق کو واپس دینے کی منظوری دے دی تھی۔

اس بارے میں ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیر اعظم کو جمعرات کی شام ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے آئی جی سندھ کے لیے غلام قادر تھیبو، مشتاق احمد مہر اور ڈاکٹر کامران کے نام تجویز کیے تھے۔

تاہم وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کی درخواست پر آئی جی سندھ کو فوری ہٹانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبائی حکومت کی درخواست زیر غور ہے جس پر کسی فیصلے تک کلیم امام ہی آئی جی سندھ رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی جی سندھ کیلئے مشتاق مہر کا نام وفاقی کابینہ نے واپس کردیا، معاون خصوصی

تاہم 2 روز قبل ہونے والی ملاقات میں عمران خان نے وزیراعلیٰ سندھ کی آئی جی کلیم امام کی تبدیلی کے لیے کی گئی درخواست پر 'مثبت اشارہ' دیا تھا۔

اس حوالے سے رپورٹس تھیں کہ وزیراعظم نے نہ صرف 'وزیراعلیٰ کے پولیس کمانڈ میں تبدیلی سے متعلق بات' کو سنا تھا بلکہ اس پر کافی حد تک اتفاق بھی کیا تھا جبکہ سندھ کے گورنر نے بھی مراد علی شاہ کی بات کی حمایت کی تھی۔

تاہم ایک روز بعد ہی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزرا کی جانب سے تحفظات کے اظہار کے بعد مجوزہ آئی جی مشاق مہر کا نام واپس لے لیا گیا تھا۔