سانحہ یوحنا آباد: 2 افراد کو زندہ جلانے کے مقدمے میں تمام '42 ملزمان' بری

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020

ای میل

مقدمے کے مدعیوں نے دفعہ 345 کے تحت صلح کی درخواست عدالت میں جمع کرائی تھی — فائل فوٹو: ڈان نیوز
مقدمے کے مدعیوں نے دفعہ 345 کے تحت صلح کی درخواست عدالت میں جمع کرائی تھی — فائل فوٹو: ڈان نیوز

لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے یوحنا آباد میں حافظ محمد نعیم اور بابر نعمان کو زندہ جلانے کے مقدمے میں راضی نامہ پیش کیے جانے پر مسیح برادری کے تمام 40 افراد کو بری کردیا۔

عدالت نے سانحہ یوحنا آباد میں حافظ نعیم اور بابر نعمان کو زندہ جلانے کے کیس پر 5 سال بعد فیصلہ سنادیا۔

مزید پڑھیں: لاہور: مظاہرین کے ہاتھوں جلایا گیا شخص 'نعیم' تھا

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے کیس کا فیصلہ سنایا۔

ملزمان کی جانب سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہمیں رہا کیا جائے کیونکہ ہمارا راضی نامہ ہو چکا ہے۔

جس کے بعد عدالت نے ملزمان کی درخواست پر مقدمے کے شرعی ورثا محمد اقبال، محمد نواز اور خدیجہ بی بی کو طلب کیا اور ان کے بیان قلمبند کیے۔

واضح رہے کہ 5 سال بعد مقدمے کے مدعیوں نے دفعہ 345 کے تحت صلح کی درخواست عدالت میں جمع کرائی تھی۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مدعیوں کے دلائل سننے کے بعد تمام 40 ملزمان کو مقدمے میں بری کر دیا۔

اس موقع پر جیل انتظامیہ نے مقدمے کے تمام ملزمان کو جیل سے عدالت میں پیش کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: یوحنا آباد میں 2 دھماکے، 15افراد ہلاک

واضح رہے کہ سانحہ یوحنا آباد کا مقدمہ تھانہ نشتر کالونی میں درج تھا اور کیس میں 42 ملزمان نامزد تھے تاہم 2 ملزمان جیل میں بیماری کے باعث انتقال کرگئے تھے۔

ملزمان کی پیشی کے وقت انسداد دہشت گردی عدالت کی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔

عدالت نے شرعی ورثا کے بیانات کی روشنی میں 2 افراد نعیم اور بابر نعمان کو زندہ جلانے کے مقدمے میں گرفتار تمام 42 ملزموں کو بری کردیا، جن میں سے 2 دوران قید انتقال کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: سانحہ یوحنا آباد: 20 ملزمان پر فرد جرم عائد

سانحہ یوحنا آباد میں 2 افراد کو زندہ جلانے کے واقعے کا مقدمہ ایس ایچ او کاہنہ کی مدعیت میں سرکار کی جانب سے درج کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے موبائل فون فوٹیجز، تصاویر اور نادرا ریکارڈ کے ذریعے 60 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا، جن میں سے بیشتر کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردیا گیا تھا۔

15 مارچ 2015 کو یوحنا آباد چرچ دھماکوں کے بعد مبینہ طور پر مشتعل افراد نے علاقے سے پولیس کو نکال دیا تھا اور ہوائی فائرنگ شروع کی، گرد و نواح کے تمام بازار بند کروا دیئے تھے جبکہ پولیس کو جائے وقوع تک پہنچنے نہیں دیا گیا تھا جس کے باعث حکام کو شواہد جمع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مشتعل افراد نے موقع پر موجود 2 نامعلوم افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور بعد ازاں انہیں زندہ جلا دیا گیا تھا۔

مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کی شناخت حافظ محمد نعیم اور بابر نعمان کے نام سے کی گئی تھی، حافظ نعیم شیشہ کاٹنے کا کام کرتا تھا جبکہ بابر نعمان ایک گارمنٹ فیکٹری کا ملازم تھا جو سرگودھا سے لاہور آیا تھا.

مزیدپڑھیں: پروسیکیوٹر پر ملزمان کو مذہب کی تبدیلی کی تجویز دینے کا الزام

مقتول نعیم کے بھائی سلیم نے لاہور کے تھانہ نشتر کالونی میں ایک درخواست درج کروائی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نعیم شیشہ کاٹنے کا کام کرتا تھا اور احتجاج کے دوران مشتعل افراد کے ہتھے چڑھ گیا۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں 2 افراد کے زندہ جلائے جانے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ شک کی بنیاد پر کسی کی جان لینا انسانیت سوز واقعہ ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یوحنا آباد دھماکوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے گروپ جماعت الاحرار نے قبول کی تھی۔