بھارت: 24 ہفتوں کا حمل ضائع کرنے کی اجازت

اپ ڈیٹ 30 جنوری 2020

ای میل

اس سے قبل 20 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل کی اجازت نہیں تھی—فوٹو: اے ایف پی
اس سے قبل 20 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل کی اجازت نہیں تھی—فوٹو: اے ایف پی

نئی دہلی: بھارت نے ریپ اور دیگر خطرات کا شکار خواتین کے لیے اسقاط حمل قانون میں آسانی پیدا کرتے ہوئے 24 ہفتوں کے حمل کو ضائع کرنے کی اجازت دے دی۔

ڈان اخبار میں فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ بھارت میں موجودہ قانون 20 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل کی اجازت نہیں دیتا۔

یہی وجہ ہے کہ خواتین کچھ خطرناک ادویات اور دیگر طریقوں سے حمل کو ضائع کروانے کی غرض سے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔

مزید پڑھیں: ہزاروں مراکشی خواتین کا غیر ازدواجی تعلقات، اسقاط حمل کروانے کا اعتراف

تاہم حالیہ برسوں میں ریپ اور اسمگلنگ کے باعث متاثر ہونے والی خواتین کی بڑی تعداد نے 20 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل کی اجازت کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

خیال رہے کہ 2017 میں ریپ کا نشانہ بننے والی 10 سالہ لڑکی کی 20 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل کی درخواست کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا، جس کے بعد اس نے بیٹی کو جنم دیا تھا۔

تاہم اب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی کابینہ نے اس کی اجازت دیتے ہوئے اسے اسقاط حمل قانون کے 'پروگریسو ریفارم' کا نام دیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'اسقاط حمل' پر خاتون صحافی گرفتار

دوسری جانب ایک پریس کانفرنس کے دوران سینئر وزیر پرکاش جاویدیکر کا کہنا تھا کہ 'اس قانون کی منظوری دینا اس لیے ضروری تھا کیوں کہ ایسے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں جہاں لڑکی کو کچھ وجوہات کے باعث حاملہ ہونے سے متعلق معلوم نہیں ہوپاتا، جس کے بعد اسے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس قانون سے زچگی کے دوران ہونے والی اموات میں کمی ہوگی۔

آئی پاس ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کی 2017 میں سامنے آئی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں ہر سال 64 لاکھ اسقاط حمل کیے جاتے ہیں اور ان میں نصف سے زیادہ میں غیر محفوظ طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔