آٹے کا بحران پیدا کرنے میں 204 فلور ملز ملوث ہیں، محکمہ خوراک

اپ ڈیٹ 31 جنوری 2020

ای میل

بحران پیدا کرنے کے قصورواروں میں اکثر کا تعلق بااثر سیاسی شخصیات سے ہے— فائل فوٹو: اے پی پی
بحران پیدا کرنے کے قصورواروں میں اکثر کا تعلق بااثر سیاسی شخصیات سے ہے— فائل فوٹو: اے پی پی

لاہور: محکمہ خوراک کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب میں آٹے کا بحران پیدا کرنے میں کم از کم 204 فلور ملز ملوث ہیں۔

محکمے کی جانب سے آٹے کی نقل و حرکت کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے لیے 27 جنوری سے سافٹ ویئر متعارف کروانے کا اعلان بھی کیا گیا۔

ڈان کے پاس موجود رپورٹ کی کاپی میں انکشاف کیا گیا کہ 14 ملز لاہور ڈویژن، 8 راولپنڈی، گوجرانوالہ، ملتان، ڈیرہ غازی خان اور ساہیوال ڈویژنز میں ایک، ایک فلور ملز موجود ہیں جن کے لائسنسز بحران میں کردار کی تصدیق کے بعد معطل کردیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: صدر مملکت ملک میں آٹے کے بحران سے لاعلم

رپورٹ میں کہا گیا کہ یکم دسمبر 2019 سے 28 ملز کے لائسنسز معطل کرنے کے علاوہ دیگر 176 کا گندم کا کوٹہ بھی روک دیا گیا جبکہ آٹے کے بحران میں ملوث یونٹس سے مجموعی طور پر جرمانے کی مد میں 5 کروڑ 62 لاکھ روپے بھی وصول کیے گئے ہیں۔

اس میں دعویٰ کیا گیا کہ آٹے کا بحران پیدا کرنے کے قصورواروں میں اکثر کا تعلق بااثر سیاسی شخصیات سے ہے جن میں سے کچھ حکومت میں بھی موجود ہیں۔

محکمہ خوراک کے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کے اشتراک سے ریئل ٹائم فلور مانیٹرنگ سافٹ ویئر، فلور لیجر منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا آغاز کیا گیا ہے جو 27 جنوری سے آزمائشی بنیادوں پر لاہور میں کام کررہا ہے اور فروری کے اواخر تک یہ نظام پورے پنجاب تک پھیلایا جائے گا۔

رپورٹ میں عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ آٹے کا بحران 2020-2019 کے سیزن کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے مختص کیے گئے اہداف کے برعکس سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی جانب سے گندم کی مطلوبہ خریداری نہ کرنے کا یا کم کرنے کے سے متعلق طلب پر دباؤ کی وجہ سے کیا گیا۔

اس میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ سیزن میں سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں نے گندم کا ایک دانہ بھی نہیں خریدا جبکہ خیبرپختونخوا نے 3 لاکھ ٹن کے مختص ہدف کے بجائے صرف 77 ہزار ٹن گندم خریدی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں گندم کا بحران: معاملے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم

رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کا دوسرا عنصر یہ ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ نجی تاجروں کی جانب سے منافع بخش برآمدات ہیں۔

اس میں کہا گیا کہ جون 2019 میں 20-2019 کے لیے خریداری کی مہم کے فوراً بعد اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مارکیٹ میں دباؤ محسوس کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے اگست میں سرکاری اسٹاکس سے گندم جاری کرنا شروع کردی تھی۔


یہ خبر 31 جنوری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی