ایل این جی ریفرنس: شاہد خاقان عباسی کا ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

اپ ڈیٹ 01 فروری 2020

ای میل

درخواست میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
درخواست میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ٹھیکوں میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے دائر کردہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر نے اپنے وکیل بیرسٹر ظفراللہ کے ذریعے درخواست ضمانت دائر کی۔

اسلام آباد کی عدالت عالیہ میں دائر درخواست میں شاہد خاقان عباسی نے موقف اختیار کیا کہ ایل این جی ریفرنس کا فیصلہ ہونے تک میری ضمانت بعد از گرفتاری منظوری کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب میرے خلاف بادی النظر میں کوئی بھی کیس بنانے میں ناکام رہا، نیب قانون اور نہ ہی کسی اور قانون کے تحت مجھ پر کوئی کیس بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے شاہد خاقان و دیگر کے خلاف ایل این جی کیس میں ریفرنس دائر کردیا

درخواست میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا اور نہ ہی کسی کے جرم میں اس کی معاونت کی۔

شاہد خاقان عباسی نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ نیب کی جانب سے عدالت میں محض ایک عبوری ریفرنس دائر کیا گیا جبکہ عبوری ریفرنس کی کاپی تک مجھے نہیں دی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب ابھی کیس بنانے کے لیے مزید تفتیش کر رہا ہے لیکن نیب کو مجھ سے اب کچھ برآمد نہیں کرنا کیوں کہ ایل این جی کا سارا ریکارڈ حکومت اور نیب کے پاس موجود ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آئین کی دفعہ 9 کے تحت کسی شہری کو زندگی کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی گرفتار

درخواست میں انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کو 18 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد 10 اکتوبر تک وہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں رہے۔

انہوں نے بتایا کہ 11 اکتوبر کو انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا تھا جس کی آئندہ سماعت 4 فروری کو ہوگی جبکہ درخواست ضمانت دائر کرتے وقت 191 دن حراست میں گزار چکا ہوں۔

سابق وزیراعظم نے عدالت سے استدعا کی کہ نیب ریفرنس میں ٹرائل مکمل ہونے تک ضمانت منظور کی جائے۔

اپنی درخواست کے ساتھ شاہد خاقان عباسی نے شریک ملزم شیخ عمران الحق کی ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ بھی منسلک کیا۔

اس کے علاوہ احتساب عدالت کی جانب سے منظور کیے گئے جسمانی اور جوڈیشل ریمانڈز کے 12 حکم نامے بھی درخواست کے ساتھ لگائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: شاہد خاقان عباسی، دیگر کےخلاف ایل این جی ریفرنس سماعت کیلئے منظور

خیال رہے کہ ایل این جی ریفرنس میں گرفتار پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) شیخ عمران الحق کی ضمانت 26 نومبر جبکہ 3 دسمبر کو سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کی ضمانت منظور کی گئی تھی۔

ایل این جی کیس

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کو 18 جولائی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے مائع قدرتی گیس کیس میں گرفتار کیا تھا، اس کے علاوہ 7 اگست کو ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد ہونے پر مفتاح اسمٰعیل کو عدالت سے گرفتار کیا گیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے اس وقت قوائد کے خلاف ایل این جی ٹرمینل کے لیے 15 سال کا ٹھیکہ دیا، یہ ٹھیکہ اس وقت دیا گیا تھا جب سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں شاہد خاقان عباسی وزیر پیٹرولیم تھے۔

مزید پڑھیں: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل

نیب کی جانب سے اس کیس کو 2016 میں بند کردیا گیا تھا لیکن بعد ازاں 2018 میں اسے دوبارہ کھولا گیا۔

نیب انکوائری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) اور انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم کی انتظامیہ نے غیر شفاف طریقے سے ایم/ایس اینگرو کو کراچی پورٹ پر ایل این جی ٹرمینل کا کامیاب بولی دہندہ قرار دیا تھا۔

اس کے ساتھ ایس ایس جی سی ایل نے اینگرو کی ایک ذیلی کمپنی کو روزانہ کی مقررہ قیمت پر ایل این جی کی ریگیسفائینگ کے 15 ٹھیکے تفویض کیے تھے۔

بعدازاں 3 دسمبر 2020 کو نیب نے احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس دائر کیا تھا، جس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سابق چیئرمین سعید احمد خان سمیت 10 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزمان نے 2015 سے ستمبر 2019 تک ایک کمپنی کو 21 ارب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچایا، جس سے 2029 تک قومی خزانے کو 47 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

ایل این جی ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ معاہدے کے باعث عوام پر گیس بل کی مد میں 15 سال کے دوران 68 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔