برازیل: شادی سے قبل نوجوانوں کو جنسی تعلقات سے روکنے کی حکومتی مہم

اپ ڈیٹ 05 فروری 2020

ای میل

برازیل میں ہزاروں لڑکیاں ہائی اسکول میں ہی حاملہ بن جاتی ہیں—فوٹو: نیو یارک ٹائمز
برازیل میں ہزاروں لڑکیاں ہائی اسکول میں ہی حاملہ بن جاتی ہیں—فوٹو: نیو یارک ٹائمز

آبادی کے حوالے سے لاطینی امریکا کے سب سے بڑے ملک برازیل کی حکومت کو شادی سے قبل جنسی تعلقات استوار کرنے سے نوجوانوں کو روکنے کی مہم شروع کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔

برازیلی حکومت نے سخت گیر مسیحی عقائد کے حامل صدر جیئر بولسونورو کی ہدایات پر ملک بھر میں ایک منفرد مہم شروع کر رکھی ہے جس کے تحت نوجوانوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ وہ شادی سے قبل جنسی تعلقات استوار نہ کریں۔

امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق نوجوانوں کو جنسی تعلقات استوار کرنے سے روکنے کی انوکھی مہم کو برازیل کی وزارت خواتین، خاندان و انسانی حقوق نے متعدد سماجی تنظیموں کے ساتھ شروع کیا ہے۔

مہم کے تحت ’سیکس کو شادی کے لیے بچا کر رکھیں‘ جیسے سلوگن کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اس حوالے سے سیمینارز کا انعقاد کیا جا رہا ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اس مہم کو بڑے پیمانے پر چلایا جا رہا ہے۔

نوجوانوں کو جنسی تعلقات سے روکنے کی مہم برازیلی صدر کی خواہشات پر شروع ہوئی—فائل فوٹو: اے پی
نوجوانوں کو جنسی تعلقات سے روکنے کی مہم برازیلی صدر کی خواہشات پر شروع ہوئی—فائل فوٹو: اے پی

مہم کا مقصد زیادہ سے زیادہ 13 سے 19 سال کے نوجوانوں تک رسائی کرکے انہیں نوعمری میں جنسی تعلقات استوار کرنے سے روکنا ہے۔

برازیل کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں نو عمر لڑکیاں سب سے زیادہ حاملہ ہوتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے گزشتہ سال جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق برازیل میں 1990 میں ہر ایک ہزار لڑکیوں میں سے 80 نوعمر لڑکیاں حاملہ ہوجاتی تھیں تاہم سال 2000 کے بعد اس تعداد میں کچھ کمی ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق 2017 میں برازیل کے اندر ہر ایک ہزار لڑکیوں میں سے 64 نوعمر لڑکیاں حاملہ بنیں اور 2018 میں مجموعی طور پر 44 ہزار کم عمر لڑکیاں حاملہ ہوئیں۔

برازیل کی وزیر برائے خواتین، خاندان اور انسانی حقوق مہم چلانے میں پیش پیش ہیں—فوٹو: اے ایف پی
برازیل کی وزیر برائے خواتین، خاندان اور انسانی حقوق مہم چلانے میں پیش پیش ہیں—فوٹو: اے ایف پی

عالمی سطح پر 2017 میں ہر ایک ہزار لڑکیوں میں 44 نوعمر لڑکیاں حاملہ بن رہی تھیں اور برازیل میں یہ تعداد دنیا کے تمام ممالک سے زیادہ تھی۔

انتہائی کم عمری میں لڑکیوں اور لڑکوں کی جانب سے جنسی تعلقات استوار کیے جانے اور حمل ٹھہرنے کے عالمی شرح سے زیادہ واقعات ریکارڈ ہونے پر برازیل حکومت نے مذکورہ مہم کا آغاز کیا ہے۔

حکومت نے مذکورہ مہم کو ’مناسب وقت کا انتظار کریں اور جلد بازی سے گریز کریں‘ جیسے سلوگن سے شروع کیا اور اس مہم کے تحت نوجوانوں کو صحت کی پیچیدگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں جنسی تعلقات استوار کرنے سے روکا جا رہا ہے۔

حکومتی وزرا، ارکان اور حکومت کے حامی نوجوانوں کو سوشل میڈیا اور سیمینارز کے دوران مشورہ دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایچ آئی وی سمیت اسی طرح کی دیگر بیماریوں سے بچنے کا واحد طریقہ ’جنسی تعلقات‘ سے پرہیز ہے۔

وتوریا ماریا نے 15 سال کی عمر میں جنسی تعلقات استوار کیے اور وہ 20 سال کی عمر سے قبل حاملہ ہوگئیں—فوٹو: بی بی سی
وتوریا ماریا نے 15 سال کی عمر میں جنسی تعلقات استوار کیے اور وہ 20 سال کی عمر سے قبل حاملہ ہوگئیں—فوٹو: بی بی سی

حکومتی مہم کے حامیوں کے مطابق ملک میں کم عمری میں بڑھتے حمل کے واقعات کو روکنے اور بیماریوں سے بچنے کے لیے کنڈوم یا مانع حمل کی ادویات فائدہ نہیں دے سکتیں البتہ اس کے لیے جنسی تعلقات استوار کرنے سے گریز کیا جائے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق برازیل میں عام طور پر لڑکیاں ہائی اسکول کی تعلیم کے دوران ہی حاملہ ہوجاتی ہیں اور وہ کالج میں پہنچنے سے قبل ہی ماں بن چکی ہوتی ہیں۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں محض 15 سال کی عمر میں حاملہ بن جانے والی ایک لڑکی کا حوالہ دیا جس نے بتایا کہ انہوں نے بلوغت کو پہنچنے کے بعد ہی جنسی تعلقات استوار کرلیے تھے اور جب وہ حاملہ ہوگئیں تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔

لارشیا پریرا ڈی سوزا محض 15 برس کی عمر میں ماں بنیں—فوٹو: نیویارک ٹائمز
لارشیا پریرا ڈی سوزا محض 15 برس کی عمر میں ماں بنیں—فوٹو: نیویارک ٹائمز

مذکورہ لڑکی نے بتایا کہ جب وہ ہائی اسکول میں پڑھ رہی تھیں تب وہ حاملہ ہوگئیں اور ان کی کلاس کی 80 فیصد لڑکیاں بھی ان کی طرح حاملہ ہوگئی تھیں۔

انتہائی کم عمری میں لڑکیوں کے حاملہ ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے انہیں جنسی تعلقات استوار کرنے سے روکنے کی شروع کی گئی مہم کو جہاں تعلیمی ماہرین تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہیں اپوزیشن کے ارکان بھی حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔

حکومتی مہم پر تنقید کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ حکومت مذکورہ مہم کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت سے محروم کرنے سمیت ان کے بنیادی حقوق پر قدغن لگا رہی ہیں۔

دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن ملک میں نوعمر افراد کو سیکس کی جانب راغب کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

سوشل میڈیا پر سرکاری مہم میں نوجوانوں کو سیکس کو شادی کے لیے بچا کر رکھنے کی تجویز دی جا رہی ہے—فوٹو:escolhiesperar انسٹاگرام
سوشل میڈیا پر سرکاری مہم میں نوجوانوں کو سیکس کو شادی کے لیے بچا کر رکھنے کی تجویز دی جا رہی ہے—فوٹو:escolhiesperar انسٹاگرام