کیا فیس ماسک نئے کورونا وائرس سے بچا سکتا ہے؟

فروری 08 2020

ای میل

چین میں کورونا وائرس سے سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں—فائل فوٹو: — رائٹرز
چین میں کورونا وائرس سے سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں—فائل فوٹو: — رائٹرز

کیا میڈیکل فیس ماسک پہننے سے چین سمیت متعدد ممالک میں پھیلنے والے 2019 نوول کورونا وائرس سے بچاسکتا ہے؟

یہ وہ سوال ہے جو اس وقت دنیا بھر میں متعدد افراد پوچھ رہے ہیں اور مختلف ممالک میں تو فیس ماسکس کی مانگ اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ وہ نایاب ہوگئے ہیں۔

تاہم اگر آپ عام سرجیکل فیس ماسک کے بارے میں یہ سوال پوچھ رہے ہیں تو اس کا جواب ہے 'نہیں' اس سے کوئی تحفظ نہیں ملتا۔

لائیو سائنس کی ایک رپورٹ میں امریکا کی وینڈربلٹ یونیورسٹی کے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر ولیم شیفنر نے یہ بات کہی۔

انہوں نے بتایا کہ عام فیس ماسک سے نئے کورونا وائرس سے تحفظ نہیں مل سکتا بلکہ اس کے لیے ایک مخصوص ماسک این 95 ریسپیرٹر موثر ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ ماسک سرجیکل ماسک سے زیادہ موٹا ہوتا ہے مگر طبی ماہر عام لوگوں کو اس کے استعمال کا مشورہ نہیں دیتے، کم از کم اس موقع پر نہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے مخصوص ماسک کو بہت زیادہ وقت تک کے لیے پہن کر رکھنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔

ماہرین کو بھی اس ماسک کو پہننے کے لیے تربیت دی جاتی ہے کہ اسے ناک، گالوں اور ٹھوڑی پر کس طرح فٹ کرنا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ پہننے والے ماسک کے کونوں سے سانس نہ لیا جاسکے۔

ڈاکٹر ولیم شیفنر کا کہنا تھا 'جب آپ ایسا کرتے ہیں، تو سانس لینا مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ بہت موٹا میٹریل ہوتا ہے، (جس کے باعث) آپ کو سانس لینے اور خارج کرنے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے اور گھبراہٹ کا سامنا بھی ہوسکتا ہے، اس میں نمی اور گرمی بھی محسوس ہوسکتی ہے'۔

انہوں نے بتایا کہ 'میں جانتا ہوں کہ میں ضرورت پڑنے پر اسے آدھے گھنٹے تک پہن سکتا ہوں مگر اس کے بعد مجھے کسی خالی کمرے میں جاکر اسے اتار کر چند گہری سانسیں لینا پڑتی ہیں'۔

ان کے بقول جہاں یہ وائرس موجود ہی نہیں وہاں اس طرح کے ماسکس استعمال کرنے کی بھی ضرورت نہیں، امریکا جہاں اس سال انفلوائنزا سے ہزاروں افراد ہلاک ہوگئے، وہاں بھی اس کے خلاف اس طرح کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں سوچا نہیں جاتا۔

واضح رہے کہ عام سرجیکل ماسکس سرجنز کے لیے تیار ہوتے ہیں تاکہ ڈاکٹر کی ناک اور منہ کو آپریشن کے دوران مواد سے بچایا جاسکے۔

مختلف ممالک میں لوگ اس طرح کے ماسک عام دنوں میں پہنے نظر آتے ہیں جس کا مقصد جراثیموں اور آلودگی سے بچنا ہوتا ہے مگر یہ ماسکس وائرس سے بچاﺅ میں مددگار نہیں ہوتے۔

ڈاکٹر ولیم شیفنر کے مطابق یہ ماسک وائرل ذرات سے بچانے کے لیے ڈیزائن نہیں ہوتے اور یہ ناک اور گالوں پر سختی سے فٹ بھی نہیں ہوتے جبکہ ان کا استعمال بھی اعتدال میں رہ کر کرنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ افراد یہ فلو یا نزلہ زکام ہونے پر پہنتے ہیں تاکہ دیگر افراد اس سے بیمار نہ ہوسکیں، تاہم ان کا مشورہ تھا کہ اگر آپ بیمار ہیں تو بہتر یہی ہے کہ عوامی مقامات پر جانے سے گریز کریں اور گھر میں رہنے کو ترجیح دیں۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس سے بچاﺅ کا سب سے بہترین طریقہ اپنے ہاتھوں کی اچھی صفائی، گندے ہاتھوں سے آنکھوں، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز، بیمار افراد کے قریب جانے سے بچنا اور اکثر استعمال ہونے والی اشیا اور چیزوں کو اچھی طرح جراثیم کش کرنا ہے۔