بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے نیا ٹیرف پلان متعارف کروانے کا امکان

اپ ڈیٹ 07 فروری 2020

ای میل

منصوبے کا مقصد 9 سال کی بلند ترین مہنگائی کے باعث عوام کو درپیش معاشی مسائل کو حل کرنا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
منصوبے کا مقصد 9 سال کی بلند ترین مہنگائی کے باعث عوام کو درپیش معاشی مسائل کو حل کرنا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری بات چیت کے دوران حکومت کی جانب سے قیمتوں کی ایڈجسمنٹ کا نیا طریقہ کار متعارف کروانے کا امکان ہے۔

یہ طریقہ کار بجلی کی اوسطاً قیمتوں کو 18 ماہ تک بغیر کسی تبدیلی کے برقرار اور گردشی قرض میں اضافے کے بغیر 25-2024 سے اس میں 3 روپے فی یونٹ کی کمی کردے گا۔

یہ منصوبہ پاور ڈویژن اور اس کی سبسڈری سینٹرل پاور پرچیزنگ کمپنی (ای پی پی اے) نے تیار کیا جس کا مقصد 9 سال کی بلند ترین مہنگائی کے باعث عوام کو درپیش معاشی مسائل کو حل کرنا ہے جو وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت پر دباؤ کا سبب بن رہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ منصوبے کی منظوری آئی ایم ایف سے لینی پڑے گی جو اس وقت مالی سال 20-2019 کی دوسری سہہ ماہی میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف ہدف کے حصول کیلئے بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ

اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ہوئے اجلاس میں تفصیلی گفتگو کی گئی جس میں وزیر توانائی عمر ایوب، معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر اور وزارت توانائی اور خزانہ کے سیکریٹریز نے شرکت کی۔

اس ضمن میں اجلاس وزارت توانائی کے آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے کے حوالے سے پیش رفت جاننے کے لیے بلایا گیا تھا تاکہ جاری بات چیت کے اختتام سے پہلے نجی طور پر بجلی پیدا کرنے والوں کو ادائیگیوں کی گنجائش کا معاملہ درست کیا جائے۔

وزارت توانائی کی جانب سے اجلاس میں بتایا گیا کہ انہوں نے موجودہ قوانین کے تحت ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ بنیادوں پر جامع نظر ثانی کی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ اسے 12 سے 18 ماہ کے عرصے میں ایک روپے 12 پیسے سے ایک روپے 19 پیسے فی یونٹ اضافے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: ڈسکوز نے بجلی کی قیمتیں بڑھانے کے لیے درخواستیں دائر کرنا شروع کردیں

وزارت کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ ایک روپے 12 پیسے سے ایک روپے 19 پیسے فی یونٹ اضافے کے حوالے سے ماہانہ بنیاد پر فیول پرائس ایڈجسمنٹ پر کام کیا گیا جس کے تحت اسے کسی مخصوص مہینے کے بجلی کے بلز میں شامل اور اس کے بعد تازہ ایڈجسمنٹ سے تبدیل کردیا جائے گا۔

تاہم درکار اضافے کے ایک حصے کو متوقع کارکردگی کے حصول اور ایندھن کے مرکب میں تبدیلی کر کے روکا جاسکتا ہے۔

اسی طرح صنعتوں کو بجلی کی خصوصی قیمتوں کی پیشکش کی جائے گی جس سے وہ اضافی گنجائش کو جذب کرنے کے لیے کم قیمت پر زیادہ بجلی استعمال کرسکیں گے۔

یہ ٹیرف حکومت کی جانب سے صنعتی سیکٹرز کے لیے 7 روپے 50 پیسے فی یونٹ مقرر کرنے اور پھر اس میں اضافی لاگت شامل کر کے اس کی خلاف ورزی کرنے، سہ ماہی ایڈجسمنٹ اور متعدد سرچارجز کے بجائے ایک طویل عرصے کے لیے دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی کی قیمت میں ایک روپے 56 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری

اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی کی قیمتوں میں سمتبر 2020 سے کمی آنے کا امکان ہے اور 25-2024 تک اس میں اوسطاً 3 روپے فی یونٹ کی کمی ہوجائے گی۔

یوں مجموعی طور پر 25-2024 تک بجلی کی قیمت 15 روپے 30 پیسے فی یونٹ سے کم ہو کر 12 روپے 50 پیسے فی یونٹ جبکہ صنعتی ٹیرف کے 17 روپے سے کم ہو کر 14 روپے فی یونٹ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے پورے ٹیرف پلان کی تصدیق کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ اسے آئی ایم ایف سے منظور ہونے کے بعد منظوری کے لیے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھجوایا جائے گا۔