پیپلز پارٹی کا سرکاری جامعات کے مالی بحران پر تحفظات کا اظہار

اپ ڈیٹ 10 فروری 2020

ای میل

چیئرمین پی پی پی نے اعلیٰ تعلیمی بجٹ میں بڑی کمی کی مذمت کی—فائل فوٹو: ڈان نیوز
چیئرمین پی پی پی نے اعلیٰ تعلیمی بجٹ میں بڑی کمی کی مذمت کی—فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) کے بجٹ میں کمی کے باعث سرکاری جامعات کو درپیش مالی بحران پر سنگین تحفظات کا اظہار کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک بیان جاری کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی نے اعلیٰ تعلیمی بجٹ میں بڑی کمی کی ’مذمت‘ کی جس کے باعث سرکاری جامعات اپنے امور کی انجام دہی کے لیے نجی شعبے سے قرض لینے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 104 جامعات اپنی تاریخ کے بدترین مالی بحران کا سامنا کررہی ہیں اور ’کٹھ پتلی حکومت‘ ایک کھرب 58 ارب روپے کے درکار بجٹ میں سے نصف بھی مختص کرنے کو تیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا آٹے، چینی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والوں کو سزا دینے کا فیصلہ

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پشاور یونیورسٹی سمیت ملک کی چند نمایاں جامعات اپنے عملے کو تنخواہیں تک ادا نہیں کر پارہیں جبکہ تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کو بری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے۔

مذکورہ بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’کٹھ پتلی حکومت نے اپنے سلیکٹرز کی ناک کے نیچے ملکی معیشت کو تباہ، لاکھوں افراد کو غربت کی لکیر سے بھی نیچے دھکیل دیا، قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، بے روزگاری بے قابو ہورہی ہے جبکہ ملک کو معاشی، معاشرتی اور سیاسی دلدل میں گھسیٹا جارہا ہے‘۔

انہوں نے سرکاری جامعات کے افعال معمول کے مطابق چلانے کے لیے ان کو درکار فنڈز بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور طلبہ، اساتذہ اور جامعات کی عملے سے اس بحرانی کیفیت میں یکجہتی کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: مہنگائی کی شرح جنوری کے مہینے میں 12 سال کی بلند ترین سطح پر آگئی

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں کہا کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کا ایک ہی حل ہے کہ وزیراعظم عمران خان مستعفی ہوجائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب صرف عمران خان کا استعفیٰ ہی ملک کو ایک کے بعد ایک بحران اور معاشی تباہی سے باہر نکال سکتا ہے، اگر عمران کو غریب اور مشکلات کا شکار پاکستانیوں کے لیے ذرا سی بھی ہمدری ہے تو انہیں اپنی ذات اور تکبر سے بالاتر ہو کر اپنی نالائقی اور نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عہدہ چھوڑنا ہوگا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ڈراموں اور جھوٹ کا سرکس ملک کو مرمت سے کہیں زیادہ تباہی سے دوچار کردے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: مہنگائی پر نظر رکھنے کی پالیسیوں کے جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے، حکومت

مریم اورنگزیب نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ابتدا میں ہی خبردار کرنے کے باوجود وزیراعظم نے وزیر تحفظ خوراک خسرو بختیار اور پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی ملز کی تلاشی نہیں لی جس کی وجہ سے انہیں ذخیرہ اندوزی، ریکارڈ تلف کرنے اور اپنی بدعنوانی اور جرائم چھپانے کا وقت مل گیا۔