چین سے شہریوں کی واپسی کے لیے تمام آپشنز زیر غور ہیں، ظفر مرزا

اپ ڈیٹ 10 فروری 2020

ای میل

کورونا وائرس سے متاثرہ چین کے شہر ووہان میں موجود پاکستانی وطن واپس آنے کے لیے زور دے رہے ہیں — فائل فوٹو: ڈان نیوز
کورونا وائرس سے متاثرہ چین کے شہر ووہان میں موجود پاکستانی وطن واپس آنے کے لیے زور دے رہے ہیں — فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: چین میں نوول کورونا وائرس (این سی وی) کے شکار پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے دباؤ بڑھنے پر حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تمام آپشنز زیر غور ہیں اور جلد فیصلہ کرلیا جائے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چین میں پاکستانی طلبہ کے لیے ایک پیغام میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ حکومت چین کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں آپ کی پرواہ ہے، اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر دیکھا جارہا ہے اور تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے انشااللہ جلد فیصلہ کرلیا جائے گا'۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تمام آپشنز زیر غور ہیں جبکہ حکومت معاملے پر توازن برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس پھیلانے والے ممکنہ جاندار کا نام سامنے آگیا

ان کا کہنا تھا کہ '(چین میں) پاکستانیوں سمیت عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے چینی ریگولیشنز اینڈ ایڈوائزریز کی صورتحال پر ہمیں تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ہوگا، معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا گیا جبکہ ہم نے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں'۔

دریں اثنا انہوں نے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا کہ 'میرے چین میں طالب علموں اور ان کے باعزت اہلخانہ کے افراد، ہم صورتحال پر اعلیٰ سطح پر بات کر رہے ہیں اور کورونا وائرس کی تباہ کن صورتحال کے حوالے سے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے بہتر فیصلہ کریں گے'۔

تاہم چین میں رہنے والے ایک پاکستانی شہری نے انہیں جواب دیا کہ 'ہم واپس آسکتے ہیں، ہمیں صرف اجازت چاہیے، سوائے ہماری حکومت اور چند بیمار افراد کے ہمارے پاس کم از کم چند لوگ ہیں جن کے پاس دل ہے اور وہ ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں، کیا یہ ملک کے قانون کے خلاف نہیں کہ آپ ہمیں اپنے وطن آنے سے روک رہے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر یہاں آپ کا بیٹا ہوتا تو میں آپ کا رد عمل دیکھنا چاہتا، آپ ہمارے دل و دماغ کے ساتھ کھیل رہے ہیں، کون سا ملک اپنے دروازے اپنے ہی ملک کے لوگوں کے لیے بند کرتا ہے، اگر آپ کا لوگوں سے یہ رویہ رہے گا تو آپ ان سے کیا امید رکھیں گے، کیا ہم آپ کو یا حکومت میں موجود تمام افراد کو یاد نہیں رکھیں گے؟'

کورونا وائرس سے متاثرہ شہر ووہان سے ایک اور پاکستانی نے ٹوئٹ کیا کہ 'اگر آپ کو ہماری پرواہ ہے تو ہمارے ساتھ ایک دن ووہان میں گزاریں، صرف ایک دن بس، جس کے بعد ہم آپ سے یہاں سے نکالنے کا نہیں کہیں گے، میری تجویز پر غور کریں، شکریہ'۔

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ 'یہ میری گزارش ہے کہ اگر آپ کچھ تبدیل نہیں کرسکتے تو ٹوئٹ بھی نہ کریں'۔

ادھر وزارت صحت کے میڈیا کوآرڈینیٹر ساجد شاہ نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چند افراد (چین میں) واپس آنا چاہتے ہیں تاہم پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے واپس آنے سے انکار کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیا کورونا وائرس چمگادڑ سے ہی کسی جانور اور پھر انسانوں میں آیا، تحقیق

ان کا کہنا تھا کہ 'میرے پاس طالب علموں کی چند ایسی ویڈیوز ہیں جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ چینی حکومت ہمارا خیال رکھ رہی ہے اور وہ واپس نہیں آنا چاہتے ہیں'۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ کے مطابق نوول کورونا وائرس پہلی مرتبہ 31 دسمبر 2019 کو چین کے شہر ووہان میں سامنے آیا تھا۔

ویب سائٹ پر کہا گیا کہ 'ڈبلیو ایچ او عالمی ماہرین، حکومتوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس نئے وائرس پر معلومات کا دائرہ کار فوری وسیع کرنے، اس کے پھیلاؤ کی نشاندہی کرنے اور ممالک کو اس وبا کو پھیلنے سے روکنے اور اپنی تحفظ کے حوالے سے تجاویز دینے کے لیے کام کر رہا ہے'۔

خیال رہے کہ اب تک 37 ہزار سے زائد نوول کورونا وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ 800 سے زائد افراد اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

کورونا وائرس اس وقت تک چین کے علاوہ 30 ممالک میں سامنے آچکا ہے تاہم وزارت صحت کے مطابق اب تک پاکستان میں اس وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔