یمن میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر 'مسلم اتحادی افواج' کو مقدمات کا سامنا

اپ ڈیٹ 14 فروری 2020

ای میل

عدالتی حکام  نے مقدمات کی کارروائی کا آغاز کردیا ہے —فائل فوٹو: رائٹرز
عدالتی حکام نے مقدمات کی کارروائی کا آغاز کردیا ہے —فائل فوٹو: رائٹرز

یمن میں سعودی عرب کی سربراہی میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والا مسلم ممالک کے فوجی اتحاد، ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے گا جو یمن میں شہریوں پر حملوں میں ملوث ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ نے بھی انسانی حقوق کی ہولناک خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے۔

اس سلسلے میں فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے اعلان کیا کہ جب مارچ 2015 میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے حکومت کو ہٹانے کے لیے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرنے کے بعد فوجی اتحاد نے پہلی مرتبہ یمن میں مداخلت کی تھی اس وقت سے اب تک یہ پہلی اس قسم کی کارروائی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ترکی المالکی کا مزید کہنا تھا کہ ’عدالتی حکام نے مقدمات کی کارروائی کا آغاز کردیا ہے اور جب وہ کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچ جائیں گے فیصلے کا اعلان کردیا جائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی یمن میں جنگی جرائم کی تفتیش کی اجازت

ان کا کہنا تھا کہ مقدمات کی کارروائی جوائنٹ انسیڈینٹ اسسمنٹ ٹیم (جے آئی اے ٹی) کی تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر کی جائے گی جسے فوجی اتحاد نے بنایا تھا لیکن کہا تھا کہ یہ آزادانہ حیثیت میں کام کرتا ہے۔

جن مقدمات کی تحقیقات کی جائیں گی ان میں 2018 میں یمن کے شمالی علاقے میں ایک اسکول بس پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے جس میں کم از کم 40 بچے ہلاک ہوگئے تھے۔

علاوہ ازیں اُسی برس حوثی باغیوں کے زیر اثر صوبہ حجاج کے علاقے بنی قیس میں ایک شادی کی تقریب میں ہونے والے حملے کی تحقیقات بھی کی جائیں گی جس میں 20 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

علاوہ ازیں تحقیقات میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈز (ایم ایس ایف) کے زیر انتظام ایک ہسپتال پر 2016 میں کی گئی ہلاکت خیز بمباری کا واقعہ بھی شامل ہے جو 19 افراد کی ہلاکت کی وجہ بنا تھا۔

ان واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد فوجی اتحاد نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ذمہ داران کے خلاف اتحاد میں شامل ہر ملک کے قوانین کے مطابق کارروائی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کی اپیل پر یمن میں فریقین جنگ بندی پر متفق

خیال رہے کہ فوجی اتحاد میں متعدد عرب ممالک شامل ہیں لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس کے ستون ہیں جو 2015 سے یمن میں جنگی طیاروں سے حملے کررہے تھے۔

اس وقت سے لے کر اب تک اس لڑائی میں ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں جس میں زیادہ تر عام شہری تھے، لاکھوں افراد دربدر ہونے پر مجبور ہوئے جس پر اقوامِ متحدہ نے اسے دنیا کا بدترین انسانی بحران قرار دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے فوجی اتحاد اور حوثی باغیوں پر یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا جو جنگی جرائم قرار دیے جاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب: یمن جنگ میں شامل سعودی فوجیوں کیلئے عام معافی کا اعلان

ستمبر 2017 میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے جنگی جرائم کے تفتیش کار کو تعینات کیا تھا، جن کا کہنا تھا کہ وہ جہاں ممکن ہوسکا ہر اس شخص کو شناخت کرچکے ہیں جو بین الاقوامی جرائم کا ذمہ دار ہوسکتا ہے۔

بعدازاں انہوں نے ایک خفیہ فہرست اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ مشعل بیچلیٹ کو فراہم کی تھی۔

تاہم سعودی عرب کی سربراہی میں قائم مسلم ممالک کے فوجی اتحاد اور یمن کی حکومت نے ماہرین کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کردیا تھا۔