جدہ: سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان کی جانب سے یمن میں تعینات تمام سعودی فوجیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا گیا، جس سے ان فوجیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی یا انضباطی کارروائی کے امکانات ختم ہوگئے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ یمن کی سرکاری فوج حوثی باغیوں کے خلاف جنگ لڑرہی ہے، جس میں اب تک 10 ہزار کے قریب یمنی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یمن: اتحادی افواج کی کارروائی، 51 حوثی باغی ہلاک

اس حوالے سے سرکاری خبر رساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ کی جانب سے شائع کیے جانے والے عام معافی کے بیان میں کسی خاص جرم کا ذکر نہیں کیا گیا تاہم کہا گیا کہ یہ اقدام فوجیوں کی بہادری اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لے کیا گیا ہے۔

ادھر مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق شاہی معافی کا اطلاق ان تمام فوجیوں پر ہوگا جو یمن میں جاری ’آپریشن ریسٹورنگ ہوپ‘ میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ عام معافی کا اعلان خصوصی طور پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خواہش پر شاہ سلمان نے کیا۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور دیگر اتحادیوں نے یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان جاری تنازع میں مارچ 2015 میں مداخلت شروع کی تھی تاکہ حوثی باغیوں کو شکست دے کر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو بحال کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں: یمن: سعودی اتحاد کی بمباری میں درجنوں ’حوثی باغی‘ ہلاک

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب اپنے حریف ملک ایران پر حوثی باغیوں کو مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یمن تنازع میں شامل تمام متحارب گروہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

ایمنسٹی کا یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عرب امارات اور یمنی حکومت کی مدد کے لیے قائم کیے گئے فوجی اتحاد میں شامل دیگر ممالک کی افواج پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنوبی یمن میں قائم خفیہ جیلوں میں قید افراد پر بہیمانہ تشدد میں ملوث ہیں اور ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کی جنگی جرائم کے مقدمات کی طرح تحقیقات ہونی چاہیے۔

ایمنسٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اتحادی افواج یمن میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جبری گمشدگیوں میں بھی ملوث ہیں جنہیں قید کرلیا جاتا ہے۔

اس ضمن میں روسی خبر رساں ادارے آر ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یمن تنازع کے دوران جب سے سعودی سربراہی میں اتحادی افواج کی کارروائیوں کا آغاز ہوا ہے ان کو فضائی حملوں میں درجنوں شہریوں کی ہالکت کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے، تاہم انہوں نے اس کی ذمہ داری شاید ہی کبھی قبول کی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: یمن جنگ کی وجہ برطانیہ،امریکا کی سعودی عرب کو اسلحے کی فراہمی ہے، ایران

اس سلسلے میں ہیومن رائٹس واچ کے ایک عہدیدار نے گزشتہ برس انکشاف کیا تھا کہ اتحادی افواج کی جانب سے کیے گئے 61 فضائی حملوں میں بازار، اسکولز، ہسپتال اور آبادی پر مشتمل شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 900 کے قریب شہری ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب گزشتہ برس ہی اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم کو سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے 10 میں سے 8 حملوں میں فضائی کارروائی کے پیچھے کوئی ٹھوس فوجی مقاصد ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

مزید پڑھیں: یمن: اتحادی فوج کی فضائی کارروائی، حوثی رہنما سمیت 26 ہلاک

اس سے قبل یمن میں کی گئی 10 تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یقینی طور پر یمن میں اتحادی افواج کے حملوں میں بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق قوانین کے مطابق حملوں کی تعداد اور اس حوالے سے احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا گیا۔

یمنی عوام، ایرانی تسلط کا خاتمہ چاہتے ہیں، شہزادہ خالد

ادھر امریکا میں تعینات سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا تھا کہ یمن میں قیام امن اور ایرانی اثرو رسوخ ختم کرنے کے لیے یمن کی عوام پہلے کی نسبت اب زیادہ متحرک ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ سادا قبیلے کے سرداروں نے حوثی باغیوں کے زیر تسلط علاقے آزاد کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'یمن کے قیام امن میں ایران سب سے بڑی رکاوٹ'

ان کا مزید کہنا تھا کہ سادا قبیلے کے افراد اپنی حکومت اور اتحادی افواج سے توقع کررہے ہیں کہ وہ ان کے صوبے سے باغیوں کو نکال باہر کریں گے۔

اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کی سربراہی میں اتحادی افواج کی کوششیں جاری رہیں گی تاکہ یمن کے تنازعے کا اقوامِ متحدہ کی قرارداد نمبر 2216 کے تحت سیاسی حل نکالا جاسکے۔

جس کے تحت حوثی باغیوں کو ہتھیار پھینکنے ہوں گے اور شہری علاقوں سے قبضہ ختم کر کے یمن میں حکومت کو تسلیم کرنا ہوگا۔