نیند کی کمی خواتین کی صحت کے لیے نقصان دہ

18 فروری 2020

ای میل

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

نیند کی کمی خواتین کے دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ اس عادت کے نتیجے میں وہ زیادہ کھانے لگتی ہیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن خواتین کی نیند کا معیار خراب ہوتا ہے، وہ ناقص معیار کی غذا کو زیادہ مقدار میں جزوبدن بناتی ہیں جس کے نتیجے میں موٹاپے کے ساتھ ساتھ دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

طبی جریدے جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی تحقیق میں 495 خواتین کو شامل کیا گیا جن سے ان کی نیند اور غذائی عادات کے بارے میں تفصیلات حاصل کی گئیں۔

ان خواتین کی عمریں 20 سے 76 سال کے درمیان تھیں اور محققین نے دریافت کیا کہ ایک تہائی خواتین ناقص نیند یا کسی حد تک بے خوابی کی شکار تھیں جبکہ 27.5 فیصد 7 گھنٹے یا اس سے زائد کم وقت تک سونے کی عادی تھیں۔

اوسطاً زیادہ تر خواتین تجویز کردہ مقدار سے زیادہ چربی اور چینی کا استعمال کررہی تھیں جبکہ اجناس، فائبر اور دودھ کی مصنوعات کو کم استعمال کررہی تھیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ کم نیند یا ناقص معیار کی نیند سے خواتین زیادہ چینی اور زیادہ مقدار میں غذا کھانے لگیں جن کا تعلق مختلف امراض جیسے موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو سے جوڑا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں اچھی نیند لینے والی خواتین کا غذائی انتخاب صحت بخش تھا۔

ماضی میں تحقیقی رپورٹس میں یہ ثابت ہوچکا کہ ناقص نیند اور صحت کے لیے نقصان دہ غذا کے استعمال کے درمیان تعلق موجو دہے، جبکہ بے خوابی زیادہ کھانے بشمول چربی کا امکان بڑھاتی ہے۔

محققین نے اس بارے میں بتایا کہ اچھی نیند زیادہ بہتر غذا کے انتخاب کا باعث بنتی ہے خصوصاً ایسی غذا جو دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ کم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تحقیق محدود نوعیت کی تھی اور نیند کے ساتھ غذا کا تعلق بلاواسطہ ہوسکتا ہے جبکہ جو طریقہ کار استعمال کیا گیا وہ یہ ثابت نہیں کرتا کہ ناقص نیند خواتین میں نقصان دہ غذائی انتخاب کا باعث بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیند کا معیار ممکنہ طور پر زیادہ غذا اور کیلوریز کے استعمال کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ اس سے بھوک کے سگنلز متحرک ہوتے ہیں یا پیٹ بھرنے کا احساس دلانے والے سگنلز دب جاتے ہیں۔