رجب طیب اردوان کا کشمیر سے متعلق بیان، بھارت میں ترک سفیر طلب

اپ ڈیٹ 18 فروری 2020

ای میل

ترک صدر نے پاکستان کے دورے کے دوران کہا تھا کہ ترکی بھارت مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔ — فائل فوٹو: اے ایف پی
ترک صدر نے پاکستان کے دورے کے دوران کہا تھا کہ ترکی بھارت مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔ — فائل فوٹو: اے ایف پی

بھارت نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بیان پر سفارتی احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے ترک سفیر کو طلب کیا اور خبردار کیا کہ اس کے باہمی تعلقات پر سخت نتائج سامنے آئیں گے۔

واضح رہے کہ ترک صدر نے دو روزہ دورہ پاکستان کے موقع پر پہلی کشمیری جنگ کے دوران غیر ملکی قبضے کے خلاف ترک عوام کی جدوجہد کے ساتھ 'کشمیری عوام کی جدوجہد' کا موازنہ کیا تھا۔

دورے کے دوران پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ سو سال پہلے ترکی میں جو ہوا تھا اسے آج مقبوضہ کشمیر میں دہرایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تھا کہ مقبوضہ کشیمر کی صورتحال مسلم اکثریتی علاقے میں تبدیلی کرنے کے نئی دہلی کے فیصلے کے بعد ابتر ہوگئی ہے اور ترکی کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار میں کھڑا رہے گا۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'ترکی بھارت مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہے گا'۔

مزید پڑھیں: ترکی ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے، بھارت

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نے ترک سفیر ساکر اوزکان تورنلار کو کہا کہ رجب طیب اردوان کے ریمارکس میں کشمیر تنازع کی تاریخ کو سمجھنے کی کمی کا مظاہرہ کیا گیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا کہنا تھا کہ 'حالیہ بیان ترکی کی جانب سے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ایک اور مثال ہے، بھارت کے لیے یہ ناقابل قبول ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے ترک سفیر کو طلب کرنے کے شدید احتجاج کیا اور انہیں سفارتی پرچہ تھمادیا۔

خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے دو وفاقی اکائیوں میں تبدیل کردیا تھا اور کہا تھا کہ اس اقدام سے خطے میں ترقی ہوگی۔

بھارتی قابض فوج بدستور انسانی حقوق کی پامالی میں مصروف ہے جہاں نوجوانوں اور بزرگوں سمیت خواتین و بچوں پر بھی تشدد جاری ہے اور انہیں گھروں پر محصور کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیریوں پر مظالم کےخلاف ترک صدر کا مذمتی بیان لائق تحسین ہے، وزیراعظم

مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام تعلیمی ادارے بھی بند ہیں اور طلبہ مسلسل 99ویں روز بھی اسکولوں، کالجوں اور جامعات نہیں جاسکیں جبکہ ان کے امتحانات کی تیاریوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

امریکا سمیت دنیا بھر میں موجود کشمیریوں نے بھارتی حکومت کے مظالم کے خلاف احتجاج کیا اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے بھی بھارت کو صورت حال معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 1989 سے متعدد مسلح گروپ بھارتی فوج اور ہمالیہ کے علاقوں میں تعینات پولیس سے لڑتے آئے ہیں اور وہ پاکستان سے انضمام یا کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں۔

اس لڑائی کے دوران اب تک ہزاروں لوگ مارے جاچکے ہیں، جس میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔