ایپل کے سی ای او ایک بھارتی نژاد شخص کے ہاتھوں ہراساں

21 فروری 2020

ای میل

ٹیم کک ایک ڈویلپر کانفرنس میں موجود ہیں — اے ایف پی فائل فوٹو
ٹیم کک ایک ڈویلپر کانفرنس میں موجود ہیں — اے ایف پی فائل فوٹو

ایپل دنیا کی چند بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے مگر اس کے اعلیٰ عہدیداران کو ایک بھارتی نژاد شہری نے اتنا پریشان اور ہراساں کیا کہ کمپنی کو عدالت سے اسے روکنے کا حکم لینا پڑا۔

رپورٹس کے مطابق راکیش 'راکی' شرما نامی شخص نے ایپل کے سی ای او ٹم کک اور دیگر عہدیداران کو فون کیے اور 'تنگ' کرنے والی وائس میلز ارسال کیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق اس شخص کے رویے میں شدت میں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب وہ کیلیفورنیا کے شہر پال آلٹو میں واقع ٹم کک کی جائیداد میں بلااجازت داخل ہوگیا اور پھول اور شراب دینے کی کوشش کی۔

یہ شخص مبینہ طور پر ایک بند دروازے سے بلااجازت داخل ہوا تھا اور جنوری میں دوسری بار اسی راستے سے پھر جائیداد میں داخل ہوکر رنگ بیل بجانے لگا۔

مقامی پولیس راکیش شرما کو گرفتار نہیں کرسکی تھی کیونکہ اس کی آمد سے قبل وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔

اس شخص نے مبینہ طور پر ایپل کے عہدیداران کو پرتشدد دھمکیاں دیں اور کہا 'میں ایمونیشن استعمال نہیں کروں گا، مگر میں جانتا ہوں کہ لوگ کیا کرسکتے ہیں'۔

ایپل کی جانب سے اس حوالے سے فی الحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم عدالت نے کمپنی کی درخواست پر اس شخص کو کمپنی کے ہیڈکوارٹرز، ٹم کک، ان کی جائیداد اور ایپل کے دیگر عہدیداران سے دور رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

یہ احکامات 3 مارچ تک موثر رہیں گے اور اسی دن کیس کی سماعت ہوگی۔

سی نیٹ کی رپورٹ کے مطابق اس شخص کی عمر 41 سال ہے اور اس کی سرگرمیوں کا آغاز 25 ستمبر 219 کو ہوا تھا جب اس نے ایپل کے ایک عہدیدار کو وائس میل بھیجی تھی۔

اس کے ایک ہفتے بعد اس نے ایک اور دھمکی آمیز کال کی اور پھر شدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔