افغان امن عمل: پہلی بار درست سمت میں امور آگے بڑھ رہے ہیں، وزیر اعظم

اپ ڈیٹ 21 فروری 2020

ای میل

بھارت میں مودی کی موجودہ حکومت سے کوئی امیدیں نہیں ہیں، وزیر اعظم عمران خان — فوٹو: اے پی پی
بھارت میں مودی کی موجودہ حکومت سے کوئی امیدیں نہیں ہیں، وزیر اعظم عمران خان — فوٹو: اے پی پی

وزیراعظم عمران خان نے امریکا اور طالبان کے درمیان ممکنہ معاہدے کے ذریعے افغانستان میں قیام امن کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ درست سمت میں چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں۔

بیلجیئم کے نشریاتی ادارے وی آر ٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے افغان امن عمل سے متعلق کہا کہ 'امریکا امن اور طالبان کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے، طالبان اب امریکا کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، اگلے مرحلے میں سیز فائر ہوگا اور ممکنہ طور پر معاہدہ بھی ہو سکتا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'جب سے اقتدار سنبھالا ہے افغانستان میں قیام امن کے لیے تمام تر کوششیں کیں جبکہ خوش قسمتی سے امور درست انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔'

انہوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی صورتحال پر قابو پانے میں پاکستان کی مسلح افواج بالخصوص انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ان کی وزارت عظمیٰ کا پہلا سال یعنی 2019 نائن الیون کے بعد سب سے پرامن ترین سال تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا، افغان طالبان کا 29 فروری کو امن معاہدے پر دستخط کرنے کا اعلان

کشمیر کے حوالے سے سوال پر عمران خان نے کہا کہ 'بھارت کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت راشٹریہ سویم سیوک سَنگھ (آر ایس ایس) کے نظریے پر چلایا جارہا ہے، آر ایس ایس 30 کے عشرے میں نازیوں سے متاثر ہے اور اس کے بانیان جن کی آج کل حکومت ہے، وہ ہٹلر اور اس کے نسل پرستانہ آرین نسل کے فلسفے سے متاثر تھے۔'

وزیراعظم نے کہا کہ اسی لیے بھارتی حکومت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو، جو مسلمان ہیں کھلی جیل میں ڈال دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں بھارت میں مودی کی موجودہ حکومت سے کوئی امیدیں نہیں ہیں تاہم مستقبل کی بھارت کی مضبوط قیادت مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تحریک آزادی کے دوران بھارت کے رہنما جواہر لعل نہرو نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن بھارت انہیں یہ حق نہیں دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر یہ حق دیا گیا تو کشمیری (مقبوضہ کشمیر) کے مسلم اکثریتی خطہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کا انتخاب کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’ میں سمجھتا ہوں کہ اگر بھارت میں ایک مضبوط اور منطقی سوچ رکھنے والی قیادت ہوگی تو یہ مسئلہ حل ہوجائے گاکیونکہ ہر مسئلے کا ایک حل ہوتا ہے‘۔

'پاکستان کو ابھی تک مکمل طور پر دریافت نہیں کیا جاسکا'

ملک کی اقتصادی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ '2019 پاکستان کے لیے مشکل سال تھا لیکن خوش قسمتی سے حکومت نے بروقت اقدامات اٹھائے، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں حسابات جاریہ کا خسارہ میں ایک سال میں 75 فیصد کمی ہوئی، سال 2020 پاکستان کی اقتصادی بحالی کا سال ہوگا۔'

انہوں نے کہا کہ 'حکومت نے پاکستان کو غیر ملکیوں کے لیے کھول دیا ہے، 70 ممالک کے شہریوں کو ایئرپورٹ پر ویزے دیئے جا رہے ہیں اور پاکستان نے اپنے تمام علاقے سیاحت کے لیے کھول دیئے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان سیاحت کے حوالے سے متنوع اور منفرد ملک ہے، پاکستان کو ابھی تک مکمل طور پر دریافت نہیں کیا جا سکا ہے، یہاں پر مہمان نوازی زیادہ ہے جبکہ ملک میں امن و سلامتی کے نتیجے میں ہمیں امید ہے کہ سیاحت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا۔'

مزید پڑھیں: پاکستان سال 2020 میں سیاحت کے لیے بہترین ممالک میں شامل

'پاکستان ماحولیاتی آلودگی سے دیگر ممالک سے زیادہ متاثر ہے'

ماحولیاتی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ 'موجودہ حکومت نے 10 ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے جس سے جنگلات کے رقبے میں اضافہ ہوگا، جنگلی حیات بڑھیں گی اور ماحول پر مجموعی طور پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔'

انہوں نے کہا کہ 'پاکستان ماحولیاتی آلودگی سے دیگر ممالک سے زیادہ متاثر ہے، ملک کا انحصار دریاﺅں پر ہے اور 80 فیصد دریاﺅں میں گلیشیئرز سے پانی آتا ہے، عالمی درجہ حرارت کے نتیجے میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور یہ ہمارے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔'

کرکٹ اور سیاسی کیریئر کے بارے میں سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ 'ریٹائر ہونے کے بعد وہ باقی زندگی کرکٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے گزار سکتے تھے، تاہم فلاحی ریاست اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو امداد کی فراہمی کے لیے سیاست اور حکومت میں آنا ضروری تھا۔'