ایران: 'مغربی میڈیا نے ووٹرز کی حوصلہ شکنی کیلئے کورونا وائرس کا پروپیگنڈا کیا'

اپ ڈیٹ 23 فروری 2020

ای میل

آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ہمارے دشمن انتخابات کے مخالف ہیں —فائل فوٹو: اے پی
آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ہمارے دشمن انتخابات کے مخالف ہیں —فائل فوٹو: اے پی

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے غیر ملکی میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ تہران میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی خبر نشر کرکے عام انتخابات میں حصہ لینے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کرتا رہا۔

خبرایجنسی اے ایف پی کے مطابق سپریم لیڈر نے کہا کہ 'یہ منفی پروپیگنڈا چند ماہ قبل شروع ہوا اور انتخابات کے قریب آتے ہی اس میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا'۔

مزیدپڑھیں: ایران: پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ مکمل

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں مغربی میڈیا نے بیماری اور وائرس کے بہانے لوگوں کو انتخابی عمل میں شرکت سے روکنے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ (ہمارے دشمن) انتخابات کے مخالف ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس سے ایران میں 5 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ایران مشرق وسطیٰ میں پہلا ملک ہے جہاں کورونا وائرس سے شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

کورونا وائرس کے پیش نظر ایران میں 14 صوبوں کے اسکول، جامعات اور دیگر تعلیمی مراکز کو 'احتیاطی اقدام' کے طور پر بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس سے ایران میں 2 افراد ہلاک، مجموعی تعداد 2100 سے متجاوز

اس ضمن میں حکام نے بتایا کہ تہران کے سٹی ہال میں میٹرو اسٹیشنز میں قائم دکانیں اور پانی کے چشمے بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تہران کی ضلعی انتظامیہ کے تعلقات عامہ کے سربراہ غلام مرزا محمدی نے بتایا کہ بسوں اور زیرزمین ٹرینوں کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

علاوہ ازیں تہران سمیت دیگر شہروں میں وسیع و عریض پوسٹرز بھی لگائے لگئے ہیں جس میں لوگوں سے کہا گیا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ مہم کے تحت وہ مصافحہ کرنے سے اجتناب کریں۔

ادھر عالمی ادارہ برائے صحت کی جانب سے بھی ایران میں COVID-19 وائرس پھیل جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں نئی پارلیمنٹ کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے جس کے ٹرن آؤٹ پر لوگوں کی گہری نظر ہے۔

مزیدپڑھیں: چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کرگئی

اصلاح پسند اور اعتدال پسندوں سمیت 7 ہزار سے زائد امیدوار نااہل قرار پانے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ٹرن آؤٹ کا تناسب معمول سے کم ہوگا۔

290 نشستوں کے ایوان کے لیے 208 انتخابی حلقوں میں ووٹنگ ہوئی۔

رواں ہفتے کے آغاز میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ زیادہ ووٹ ڈالنے سے 'ایران کے خلاف امریکیوں اور اسرائیل کے حامیوں کی سازشیں اور منصوبے ناکام ہوجائیں گے'۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی کونسل کے دو اعلیٰ عہدیداروں اور انتخابی نگران کمیٹی کے تین ممبران پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں 7 ہزار امیدواروں کو نااہل قرار دینا، ایران کے عوام کی آواز کو خاموش کرانے کے مترادف ہے۔