ایران: عام انتخابات میں اصلاح پسندوں کو شکست، قدامت پسندوں کو برتری

اپ ڈیٹ 24 فروری 2020

ای میل

2016 کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ تقریباً 62 فیصد تھا —فائل فوٹو: اے ایف پی
2016 کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ تقریباً 62 فیصد تھا —فائل فوٹو: اے ایف پی

ایران میں منعقدہ عام انتخابات میں قدامت پسند سیاسی جماعت نے اکثریت حاصل کرلی ہے جبکہ گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابی عمل میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد کم ترین سطح 42.57 فیصد رہا۔

خبرایجنسی اے ایف پی کے مطابق 2016 کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ تقریباً 62 فیصد تھا۔

مزیدپڑھیں: ایران: پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ مکمل

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ایران کی رجعت پسند جماعت کو 30 پارلیمانی نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام کو ووٹ کے عمل میں زیادہ سے زیادہ شرکت کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ زیادہ ووٹ ڈالنے سے 'ایران کے خلاف امریکیوں اور اسرائیل کے حامیوں کی سازشیں اور منصوبے ناکام ہوجائیں گے'۔

اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے بڑے پیمانے پر ووٹنگ کے ذریعے قوم سے ایک اور فتح حاصل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایران کے وزیر داخلہ عبد الرضا رحمانی فضلی نے کہا کہ انتخابی عمل میں سب سے کم ٹرن آؤٹ دارالحکومت تہران میں رہا جہاں صرف 25.4 فیصد اہل رائے دہندگان نے حق رائے دہی استعمال کیا۔

ایرانی ٹی وی کے مطابق اسپیکر کے عہدے کے لیے سابق میئر محمد باقر قلیباف 12 لاکھ سے زائد ووٹ لے کر دارالحکومت میں سرفہرست رہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کشیدگی میں کمی نہیں چاہتا، ایران

وزارت داخلہ نے بتایا کہ انتخابات میں 208 حلقوں میں سے 95 فیصد کے نتائج آگئے ہیں۔

خیال رہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے فاتح امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا گیا لیکن ان کی سیاسی وابستگی ظاہر نہیں کی گئی۔

ایران کے اخبار کیہان نے لکھا کہ 'امریکا مخالف امیدواروں کی فتح واشنگٹن کے منہ پر نیا طمانچہ ہے'۔

اخبار کے مطابق 'عوام نے اصلاح پسندوں کو نااہل کردیا ہے'۔

ایران کے سرکاری اخبار کی ویب سائٹ کے مطابق انتخابات میں 17 خواتین بھی منتخب ہوئی ہیں۔

مزیدپڑھیں: کورونا وائرس سے ایران میں 2 افراد ہلاک، مجموعی تعداد 2100 سے متجاوز

وزیر داخلہ عبد الرضا رحمانی فضلی نے بتایا کہ انتخابات ایسے حالات میں ہوئے جب ملک کو خراب موسم اور کورونا وائرس کی وبا کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہی حالات میں یوکرینی مسافربردار طیارے کا واقعہ بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ رواں برس 3 جنوری کو ایران کی حدود میں غلطی سے میزائل سے نشانہ بنا کر یوکرینی مسافر بردار طیارے کو تباہ کردیا گیا تھا جس میں 176 افراد سوار تھے۔

ایران نے مذکورہ واقعے میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اسے انسانی غلطی قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں 'ٹرن آؤٹ ریٹ ہمارے لیے بالکل قابل قبول ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے بھی کم ٹرن آؤٹ کی پیش گوئی تھی کیونکہ قدامت پسند الیکٹورل کمیٹی نے پہلے ہی 7 ہزار اصلاح پسند اور اعتدال پسند امیدواروں کو نااہل قرار دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران، سعودیہ تنازع سے خطے میں غیرمعمولی غربت بڑھے گی، عمران خان

فارس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ کم از کم 11 حلقوں پر مشتمل ہوگا جس کے لیے ایک خاتون امیدوار نے کوالیفائی کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ مذکورہ انتخابات ایسے وقت پر منعقد ہوئے جب ایران کو شدید اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد تہران کو عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے جس کے باعث بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، مہنگائی اور بے روزگاری بڑھی اور مقامی کرنسی کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی۔

علاوہ ازیں گزشتہ برس نومبر میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد پرتشدد مظاہروں میں کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ ایران میں پارلیمنٹ صرف سالانہ بجٹ اور وزرا کے ممکنہ مواخذے پر بحث کرتی ہے۔

مزیدپڑھیں: امریکا نے ایرانی ’پاسداران انقلاب‘ کو دہشت گرد قرار دے دیا

ایران میں اقتدار بالآخر سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے پاس ہی ہے جو اہم نوعیت کی پالیسی پر حتمی رائے رکھتے ہیں۔

ایران کی 8 کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی میں سے 5 کروڑ 80 لاکھ ایرانی ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جن میں 18 سال سے زیادہ عمر کے افراد ہی شامل ہیں۔