پنجاب بار کونسل وزیر قانون فروغ نسیم کو عہدے سے ہٹانے کی مخالف

اپ ڈیٹ 24 فروری 2020

ای میل

وزیرقانون فروغ نسیم—فائل فوٹو: ڈان نیوز
وزیرقانون فروغ نسیم—فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: پنجاب بار کونسل (پی بی بی سی) نے وزیر قانون فروغ نسیم کو کابینہ سے ہٹانے کے پاکستان بار کونسل کے مطالبے پر 'مذمت' کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک بیان میں پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین جمیل اصغر بھٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان بار کونسل کی جانب سے فروغ نسیم کو ہٹانے کے مطالبے پر ملک کے وکلا وزیر قانون کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ یہ مطالبہ 'بدنیتی' پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر ذاتی مفاد میں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو 'سیاسی' بنانا چاہتے ہیں تاکہ ان کے اپنے ذاتی ایجنڈے مکمل ہوسکیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان بار کونسل کا فروغ نسیم کو وزیر قانون کے منصب سے فوری ہٹانے کا مطالبہ

جمیل اصغر بھٹی نے اپنے بیان میں وزیر قانون کی 'حب الوطنی' کی تعریف کی اور کہا کہ فروغ نسیم نے ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور وکلا برادری کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے آئین کے تحت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کیا، ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذکورہ ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ پوری وکلا برادری کے لیے قابل قبول ہوگا۔

خیال رہے کہ ججز کی جاسوسی کے معاملے پر سخت الفاظ میں پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے نائب چیئرمین عابد ساقی نے وزیراعظم عمران خان پر زور دیا تھا کہ 'اس سے پہلے کے دیر ہوجائے (وہ) وسیع قومی مفاد اور منتخب جمہوری حکومت کے تسلسل کے لیے وزیر قانون کو فوری طور پر وفاقی کابینہ سے بے دخل کریں'۔

یہ بھی پڑھیں: خالد جاوید نئے اٹارنی جنرل تعینات

پی بی سی کے نائب چیئرمین نے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وزیر قانون کے کردار، طرز عمل اور سرگرمیوں کا مقصد عدلیہ کی آزادی اور جمہوری عمل کے تسلسل کو نقصان پہنچانا ہے، اس طرح وہ قومی مفاد کے خلاف کام کر رہے اور موجودہ حکومت کا نام خراب ہورہا ہے۔

تاہم وزیر قانون نے ایک بیان میں اپنے استعفے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر سنجیدہ قرار دیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ وہ وکلا برادری کو اپنے خاندان کی طرح سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'بار میں صرف کچھ دھڑے اس طرح کے مطالبات کر رہے ہیں جس کا مقصد صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے'۔