ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں، 'حکومتِ پاکستان زائرین پر پابندی نہیں لگارہی'

ای میل

وزیرمذہبی امور کی زیرصدارت اجلاس ہوا — فوٹو: وزارت مذہبی امور
وزیرمذہبی امور کی زیرصدارت اجلاس ہوا — فوٹو: وزارت مذہبی امور

وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے ایران میں کورونا وائرس کے بعد پڑوسی ملک سے سرحد عارضی طور پر بند ہونے پر وضاحت دی ہے کہ پاکستان کی حکومت زائرین پر قطعی طور پر پابندی نہیں لگا رہی۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری کی زیر صدارت معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، سیکریٹری مذہبی امور مشتاق بھورانہ، اہل تشیع مکتب فکر کے علما اور ایران و عراق زیارات کے منتظمین و دیگر کا اجلاس ہوا۔

مذکورہ اجلاس میں چین کے بعد ایران میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث پاکستانی زائرین کو وبا سے بچانے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سمیت دیگر معاملات زیر غور آئے۔

بعد ازاں اجلاس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان زائرین کے زیارتوں پر جانے کے حوالے سے قطعی طور پر پابندی نہیں لگا رہی، صرف مخصوص وقت کے لیے عوام ایران کا سفر احتیاطاً کم سے کم کریں۔

مزید پڑھیں: کویت، بحرین میں بھی کورونا کیسز، چین کے بعد جنوبی کوریا دوسرا بڑا متاثر ملک

انہوں نے کہا کہ فی الحال کوشش ہے کہ زائرین اور تجارت کے لیے سفر کو کم سے کم کیا جائے، اس سلسلے میں علمائے کرام اور مشائخ اپنی مجالس، خطابات اور بیانات میں لوگوں کو تعلیم دیں اور لوگوں کو شرعی پہلو سے آگاہ کریں۔

وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر قومی مفاد کو مد نظر رکھا جائے، ہم خاص طور پر ایران کے سفر پر جانے والوں کو آگاہی دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر تمام علمائے کرام کو اعتماد میں لیا گیا ہے تاہم قوم کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے خصوصی دعا کرے۔

اعلامیے کے مطابق وزیر مذہبی امور نے کہا کہ پڑوسی ممالک چین اور ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، ان دونوں ممالک کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنا ہمارا فریضہ ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے سفر کے لیے پالیسی تیار کررہے ہیں اور ایران کے حکام، محکمہ صحت، ایرانی دفتر خارجہ اور علمی مراکز سے رابطے میں ہیں، امید ہے جلد اس وبا پر قابو پالیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ایران میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد 23 فروری کو پاکستان نے پڑوسی ملک کے ساتھ اپنی سرحد کو عارضی طور پر بند کردیا تھا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے ایران کے ساتھ منسلک سرحد کو بند کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ سرحد کو ایران میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کے پیش نظر عارضی طور پر بند کیا گیا۔

اس کے علاوہ بلوچستان کی حکومت نے پاکستان سے ایران جانے والے زائرین کے سفر پر بھی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا اور صوبائی محکمہ داخلہ کو دیگر صوبوں سے اس حوالے سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں، پاک ایران سرحد 'عارضی طور پر' بند

اس کے ساتھ ساتھ صوبے کے وزیراعلیٰ جام کمال نے صوبائی محکمہ آفات کو ہنگامی صورتحال کے پیش نظر پاک ایران سرحد کو پار کرنے کے مقام تفتان پر 100 بستروں پر مشتمل ٹینٹ ہسپتال قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے کہ ایران میں مہلک کورونا وائرس سے اب تک 12 افراد موت کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ درجنوں اس سے متاثر ہیں، جس کے باعث پاکستان کے ساتھ ساتھ ترکی اور ارمینیا نے بھی ایران سے سرحد بند کردی تھی جبکہ افغانستان نے فضائی و زمینی طور سفری پابندی لگادی تھی۔

اس وائرس کے خطرے کے پیش نظر ایران کے 14 صوبوں میں اسکولز، جامعات اور ثقافتی مراکز بھی بند کردیے گئے ہیں۔