کویت، بحرین میں بھی کورونا کیسز، چین کے بعد جنوبی کوریا دوسرا بڑا متاثر ملک

اپ ڈیٹ 24 فروری 2020

ای میل

چین کے بعد دنیا کے درجن سے زائد شہر اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں — فوٹو: اے پی
چین کے بعد دنیا کے درجن سے زائد شہر اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں — فوٹو: اے پی

چین سے شروع ہونے والے مہلک کورونا وائرس نے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے جبکہ جنوبی کوریا میں اس کے کیسز میں اضافے نے اسے چین کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والا حصہ بنادیا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق چین کے علاوہ یورپ اور مشرق وسطیٰ میں بھی اس وائرس کے کیسز سامنے آرہے ہیں اور وہاں موجود انتظامیہ اسے روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

ادھر کویت کے سرکاری خبررساں ادارے کونا نے رپورٹ کیا کہ کویت میں ایک سعودی شہری سمیت 3 افراد نئے کورونا وائرس سے متاثر ہوئے، یہ افراد ایران سے واپس آئے تھے۔

مزید پڑھیں: ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں، 'حکومتِ پاکستان زائرین پر پابندی نہیں لگارہی'

رپورٹ کے مطابق خلیجی ریاستوں میں سامنے آنے والے پہلے واقعے میں متاثر ہونے والے یہ تینوں افراد ان 700 افراد میں سے ہیں جن کا گزشتہ ہفتے ایرانی شہر مشہد سے انخلا ہوا تھا۔

علاوہ ازیں بحرین کے سرکاری خبر رساں ادارے نے وزارت صحت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بحرین میں بھی نئے کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آگیا۔

وزارت صحت نے کہا کہ یہ بحرین کا شہری ہے جو ایران سے آیا تھا۔

دوسری جانب چین میں کورونا وائرس سے اموات کا سلسلہ جاری ہے اور مزید 150 لوگوں کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 2600 تک پہنچ گئی ہے۔

چینی انتظامیہ کے مطابق وہ وائرس کی روک تھام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں ساتھ ہی ان کے بقول نقل و حرکت پر غیرمعمولی پابندی اور وائرس کے مرکز اور قریب میں قرنطینہ کرنے سے انفیکشن کی شرح کم ہورہی ہے۔

تاہم دنیا کے دیگر ممالک میں نئے کیسز اور اموات کی بڑی تعداد نے ممکنہ وبائی مرض سے متعلق خدشات کو بڑھادیا ہے اور جنوبی کوریا، اٹلی اور ایران میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ایران میں 12 اموات، تعلیمی ادارے اور ثقافتی مراکز بند

دریں اثنا ایران میں مہلک وائرس سے ہونے والی اموات اور متاثرین کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے 14 صوبوں میں اسکولز، جامعات اور ثقافتی مراکز کو بند کردیا ہے۔

اس حوالے سے الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ ایران میں مزید 4 اموات کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد 12 ہوگئی جبکہ 43 افراد اس سے متاثر ہیں۔

یہ مشرقی ایشیا سے باہر ہونے والی اموات کی سب سے بڑی تعداد ہے اور اسی خطرے کے پیش نظر ترکی، پاکستان، ارمینیا نے ایران کے ساتھ سرحد کو بند کردیا ہے۔

جنوبی کوریا میں ریڈ الرٹ

جنوبی کوریا کے شہر دائیگو سے سامنے آنے والے پہلے کیس کے بعد سے اس میں مزید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، پیر کو مزید 161 افراد اس سے متاثر اور 2 افراد کی ہلاکت رپورٹ کی گئی۔

وائرس سے چین سے باہر متاثرہ افراد کی تعداد 700 سے تجاوز کرگئی۔

جنوبی کوریا میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے — فوٹو: رائٹرز
جنوبی کوریا میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے — فوٹو: رائٹرز

ادھر جنوبی کوریا کے صدر مون جائی نے ملک میں وائرس کے خطرے کو 'ریڈ' سطح تک بڑھا دیا ہے تاکہ اس بڑھتے وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات کو تقویت دے سکے۔

یہ بھی پڑھیں: چین، بھارت، ایران کے بعد افغانستان میں بھی کورونا وائرس کا پہلا کیس

علاوہ ازیں وہاں حکومت نے کنڈرگارڈن اور اسکول کی تعطیلات میں ایک ہفتے کا اضافہ کردیا جبکہ چین سے آنے والے افراد کی نگرانی کو مزید سخت کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔

اٹلی میں فٹ بال اور فیشن شوز پر پابندی

ادھر اٹلی میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مختلف فٹ بال سیریز ملتوی کردی گئیں جبکہ میلان فیشن فیک میں وینس کارنیول کو محدود اور کچھ رن وے شوز کو منسوخ کردیا گیا۔

اگر اٹلی کی ہی بات کی جائے تو وہاں میلان سے تقریباً 70 کلو میٹر دور شمالی علاقے کوڈوگنو میں زیادہ تر کیسز سامنے آئے۔

مذکورہ وائرس سے اٹلی میں ایک بزرگ کینسر کا مریض ہلاک ہوا جس کے بعد وہاں مجموعی طور پر تین افراد اب تک اس وائس سے ہلاک ہوئے جبکہ 150 سے زائد اس سے متاثر ہیں۔

ملک میں 50 ہزار سے زائد لوگ جس میں زیادہ تر شمالی اٹلی کے علاقوں میں موجود ہیں انہیں گھروں میں رہنے کا کہا گیا ہے جبکہ پولیس نے مختلف چیک پوائنٹس بھی بنا دی ہیں۔

اٹلی کے وزیراعظم جیوپسی کونٹے نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں اور صحت کے حکام کے مشورے پر عمل کریں۔

اگر اب تک کی مجموعی تعداد پر نظر ڈالیں تو تقریباً 2 درجن ممالک میں چین سے باہر تقریباً 30 لوگ ہلاک جبکہ 1500 سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔

تاہم چین میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 5 سو 92 ہے جبکہ اس سے متاثرہ افراد 77 ہزار سے تجاوز کرچکے ہیں۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔

کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصے ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد فرہم کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت مزید خطرے میں ہے، آئی ایم ایف

ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتے ہیں اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر انہیں دیگر مقامات پر منتقل کرنے لگتے ہیں، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پائے جاتے ہیں، جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔