افریقی ملک کے وزیر اعظم کو بیوی کے قتل کے مقدمے کا سامنا

24 فروری 2020

ای میل

لیسوتھو کے وزیر اعظم کی دوسری اہلیہ پر پہلے ہی سوتن کے قتل کا الزام عائد کیا جا چکا ہے—فوٹو: اے ایف پی
لیسوتھو کے وزیر اعظم کی دوسری اہلیہ پر پہلے ہی سوتن کے قتل کا الزام عائد کیا جا چکا ہے—فوٹو: اے ایف پی

جنوبی افریقہ کے ملک لیسوتھو کے 80 سالہ وزیر اعظم ٹام تھومس تھبانے کو اپنی سابق اہلیہ 52 سالہ لپولیلو تھبانے کے قتل کے مقدمہ کا سامنا ہے اور اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ عدالت ان پر سابق اہلیہ کے قتل کے الزامات بھی عائد کرے۔

لیسوتھو کے وزیر اعظم ٹام تھومس تھبانے کی سابق اہلیہ 52 سالہ لپولیلو تھبانے 2017 میں ایک ایسے وقت میں قتل کیا گیا تھا جب وہ شوہر سے علیحدگی کے بعد طلاق کا فیصلہ آنے کی منتظر تھیں۔

اس سے زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان کا قتل ٹام تھبانے کی جانب سے وزیر اعظم کا باضابطہ طور پر عہدہ سنبھالے جانے سے 2 دن قبل ہی ہوا تھا۔

وزیر اعظم کی اہلیہ کو نامعلوم اسلحہ برداروں نے گھر کے قریب روڈ پر انتہائی قریب سے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔

بیوی کے قتل سے قبل ہی انہوں نے دوسری شادی بھی کرلی تھی اور عدالت پہلے ہی ان کی دوسری بیوی 42 سالہ مائسیا تھبانے پر اپنی سوتن کے قتل کا الزام عائد کر چکی ہے اور اس کے خلاف عدالت میں کیس زیر سماعت ہے۔

وزیر اعظم کی پہلی اہلیہ کے قتل پر لیسوتھو کے عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور زیادہ تر لوگ خود وزیر اعظم پر ہی ان کے قتل کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افریقی ملک کی خاتون اول پر سوتن کے قتل کا الزام

پہلی اہلیہ کے قتل کے دوسرے دن ہی وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے ٹام تھومس تھبانے پر گزشتہ 2 سال سے اپوزیشن کی جانب سے استعفیٰ دینا کا دباؤ ہے اور انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ رواں برس جولائی تک عہدے سے الگ ہوجائیں گے۔

وزیر اعظم کی پہلی اہلیہ لپولیلو تھبانے کو 2017 میں قتل کیا گیا تھا—فوٹو: لیسوتھو ٹائمز
وزیر اعظم کی پہلی اہلیہ لپولیلو تھبانے کو 2017 میں قتل کیا گیا تھا—فوٹو: لیسوتھو ٹائمز

ٹام تھومس تھبانے نے کچھ ہفتے قبل عہدے سے الگ ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ زائد العمری اور صحت کی خرابی کی وجہ سے عہدے سے الگ ہوں گے۔

عہدے سے الگ ہونے سے قبل ہی ملک کی ماتحت عدالت نے ان کی پہلی اہلیہ کا کیس ہائی کورٹ میں بھجوا دیا ہے جہاں ممکنہ طور پر آئندہ سماعت کے دوران وزیر اعظم پر الزام عائد کیا جائے گا۔

عرب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق وزیر اعظم ٹام تھومس تھبانے 24 فروری کو پہلی بار اپنی سابق اہلیہ کے قتل کیس میں عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ 80 سالہ وزیر اعظم ٹام تھومس تھبانے پر ان کی سابق اہلیہ کے قتل کا الزام عائد نہ کرے کیوں کہ انہیں وزیر اعظم ہونے کی وجہ سے استثنیٰ حاصل ہے۔

مائسیا تھبانے نے 2017 میں وزیر اعظم ٹام تھومس تھبانے سے شادی کی—فوٹو: ٹوئٹر
مائسیا تھبانے نے 2017 میں وزیر اعظم ٹام تھومس تھبانے سے شادی کی—فوٹو: ٹوئٹر

ماتحت عدالت نے وزیر اعظم پر ان کی اہلیہ کے قتل کا الزام عائد کرنے کا معاملہ ہائی کورٹ میں بھجواتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

اب خیال کیا جا رہا ہے کہ ہائی کورٹ ٹام تھومس تھبانے پر اپنی اہلیہ کے قتل کا الزام عائد کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرے گی تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فوری طور پر وزیر اعظم کے خلاف الزام عائد نہیں کیا جائے گا اور ان کی جانب سے عہدہ چھوڑنے کے بعد ہی ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم کی پہلی اہلیہ کے قتل کے الزام میں پہلی ہی ان کی دوسری اہلیہ پر الزام عائد کرکے ان کےخلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم کی دوسری اہلیہ مائسیا تھبانے پر الزام ہے کہ انہوں نے انہوں نے اپنے 80 سالہ شوہر کی پہلی بیوی 52 سالہ لپولیلو تھبانے کو کرائے کے قاتلوں سے قتل کروایا۔

رواں ماہ 6 فروری کو مائسیا تھبانے کو پولیس نے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا تھا جہاں ان پر سوتن کے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

بعد ازاں عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھا اور اب خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں خاتون اول اور وزیر اعظم کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائیاں کی جائیں گی۔

وزیر اعظم کی دوسری اہلیہ اس وقت ضمانت پر رہا ہیں—فوٹو: ٹوئٹر
وزیر اعظم کی دوسری اہلیہ اس وقت ضمانت پر رہا ہیں—فوٹو: ٹوئٹر