چین نے کورونا وائرس کے ہزاروں کیسز پر قابو پایا، عالمی ادارہ صحت

اپ ڈیٹ فروری 24 2020

ای میل

ڈبلیو ایچ او کا وفد کورونا وائرس سے متاثرہ چین کے مختلف شہروں کا جائزہ لے رہا ہے—فوٹو:رائٹرز
ڈبلیو ایچ او کا وفد کورونا وائرس سے متاثرہ چین کے مختلف شہروں کا جائزہ لے رہا ہے—فوٹو:رائٹرز

چین کا دورہ کرنے والے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے وفد کے سربراہ نے کہا ہے کہ چین نے گزشتہ برس ہی کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جس کے نتیجے میں تقریباً ہزاروں کیسز پر قابو پالیا گیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او وفد کے سربراہ بروس آئیلوارڈ نے چین کی نیشل ہیلتھ کمیشن (این ایچ سی) کے عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کئی ذرائع سے دستاویزات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے جبکہ اعداد و شمار کے حوالے سے مسائل بھی سامنے آئے تھے۔

خیال رہے کہ ڈبلیو ایچ او کا وفد صوبہ ہیبے کے دارالحکومت ووہان سمیت کورونا وائرس سے متاثرہ چین کے دیگر علاقوں کا جائزہ لے رہا ہے۔

قبل ازیں چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے کہا تھا کہ کوروناوائرس کے 409 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو گزشتہ روز کے مقابلے میں کم ہیں، ایک روز قبل 648 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں:چین، بھارت، ایران کے بعد افغانستان میں بھی کورونا وائرس کا پہلا کیس

چین نے جنوری کے اوائل سے ہی احتیاطی تدابیر کے طور پر ٹرانسپورٹ اور سفری پابندیاں عائد کی تھیں تاکہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روک دیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق چین کے دارالحکومت بیجنگ اور شنگھائی سمیت 20 سے زائد صوبوں میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد صفر ہوئی ہے جو وائرس کے سامنے آنے کے بعد بہترین پوزیشن ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ سمیت اعلیٰ قیادت اپنے شہریوں کو مسلسل آگاہ کر رہی ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور حکومتی اقدامات کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ عوام کو محفوظ رکھا جائے۔

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد صرف چین میں 2 ہزار 600 سے تجاوز کرگئی ہے اور اسی طرح متاثرین کی تعداد تقریباً 80 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

نیشنل ہیلتھ کمیشن کے عہدیدار لیان وینیان نے وائرس سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ چین میں 3 ہزار سے زائد میڈیکل اسٹاف کورونا وائرس سے متاثر ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ان متاثرین کی اکثریت ہیبے میں موجود ہے جو ممکنہ طور پر حفاظتی تدابیر اختیار نہ کرنے اور کام کی شدت کے باعث متاثر ہوئے’۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس کا خوف، پی آئی اے کی بیجنگ کیلئے پروازیں 15مارچ تک معطل

خیال رہے کہ کورونا وائرس ایران اور افغانستان سمیت دیگر ممالک تک پھیل گیا ہے اور پاکستان نے ایران سرحد کو بھی عارضی طور پر بند کردیا ہے۔

پاکستان نے کورونا وائرس کے باعث 15 مارچ تک بیجنگ کے لیے پی آئی اے کی پروازیں بھی معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ کا کہنا تھا کہ ایئر لائن نے کورونا وائرس کی وجہ سے پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا اور صورت حال کو دیکھتے ہوئے آپریشن دوبارہ بحال کیا جائے گا۔

اس سے قبل 30 جنوری سے 3 دن کے لیے پاکستان نے چین کے لیے اپنا فلائٹ آپریشن معطل کردیا تھا جس کے باعث کئی پاکستانی پھنس گئے تھے اور انہوں نے وہاں سے نکالنے کی درخواست کی تھی۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔

کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصے ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد فرہم کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں، پاک ایران سرحد 'عارضی طور پر' بند

ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتے ہیں اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر انہیں دیگر مقامات پر منتقل کرنے لگتے ہیں، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پائے جاتے ہیں، جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔