لاافسران سے متعلق خبر پر مناسب وضاحت جاری کریں، اٹارنی جنرل کا وزیرقانون کو خط

اپ ڈیٹ 24 فروری 2020

ای میل

اٹارنی جنرل نے مستقل میں بہتر تعلق کی بنیاد پر کام کرنے کی امید ظاہر کی—فائل/فوٹو:ڈان
اٹارنی جنرل نے مستقل میں بہتر تعلق کی بنیاد پر کام کرنے کی امید ظاہر کی—فائل/فوٹو:ڈان

وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئے نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو خط کے ذریعے لا افسران کی تعیناتی کے حوالے سے شائع خبر کو ابہام کا باعث قرار دیتے ہوئے مناسب وضاحت جاری کرنے کا مطالبہ کردیا۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی جانب سے جاری خط میں روزنامہ ڈان میں شائع خبر کا حوالے سے وضاحت جاری کرنے کو کہا گیا ہے۔

خیال رہے کہ روزنامہ ڈان کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے عہدہ سنبھالنے سے قبل ملک کے مختلف شہروں میں ڈپٹی اٹارنی جنرلز (ڈی اے جیز) اور اسٹینڈنگ کونسل کی خالی آسامیاں پُر کرنے کی کوششیں انتہائی تیز کردی گئی ہیں۔

حکومت عام طور پر یہ تعیناتیاں اٹارنی جنرل کی مشاورت سے کرتی ہے جو اعلیٰ عدلیہ میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:اٹارنی جنرل کے عہدہ سنبھالنے سے قبل حکومت، لا آفیسرز کے تقرر کیلئے کوشاں

نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عہدہ سنبھالنے کے بعد وفاقی وزیر قانون کو اس حوالے سے لکھا کہ ‘آپ نے ملاقات میں واضح کیا تھا کہ کسی لا افسر کو تعینات یا ہٹایا نہیں جا رہا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے درمیان اتفاق ہوا تھا کہ ہم آئین کی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں گے اور قانون اور انصاف ڈویژن کوئی تعیناتی، تبادلہ یا لا افسران سے متعلق دیگر معاملات کو اٹارنی جنرل آف پاکستان کی رضامندی کے بغیر نہیں کرے گا’۔

خالد جاوید خان نے اپنے خط میں کہا کہ ‘خبر نے قانون و انصاف ڈویژن اور اٹارنی جنرل کے دفتر کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ابہام پیدا کر دیا ہے، آپ سے درخواست ہے کہ مذکورہ اخبار میں اشاعت کے لیے قانون و انصاف ڈویژن کی جانب سے باقاعدہ طور پر مناسب وضاحت جاری کی جائے’۔

اٹارنی جنرل نے آخر میں کہا کہ ‘مستقبل میں وزارت قانون، اٹارنی جنرل آفس کے درمیان اپنے حدود کے اندر ایک اچھے تعلق کے لیے پرامید ہوں’۔

یہ بھی پڑھیں:نئے اٹارنی جنرل کی جسٹس قاضی عیسیٰ کیس میں حکومتی پیروی سے معذرت

خیال رہے کہ سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے 18 جنوری کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فل کورٹ کے سامنے متنازع بیان کے بعد پاکستان بار کونسل کے مطالبے پر استعفیٰ دے دیا تھا۔

وفاقی حکومت نے انور منصور خان کی جگہ خالد جاوید خان کو نیا اٹارنی جنرل مقرر کیا اور انہوں نے باقاعدہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں، تاہم فل کورٹ کے سامنے حکومت کی پیروی کرنے سے معذرت کرلی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے عہدہ سنبھالنے سے قبل ملک کے مختلف شہروں میں ڈپٹی اٹارنی جنرلز (ڈی اے جیز) اور اسٹینڈنگ کونسل کی خالی آسامیاں پُر کرنے کی کوششیں انتہائی تیز کردی گئی ہیں۔

باخبر ذرائع نے بتایا تھا کہ مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں وکلا نے محکمہ قانون پہنچ کر فوری طور پر اپنی سی وی جمع کروائی تاکہ ان میں سے جو موزوں امیدوار ہوں انہیں خالی آسامیوں پر تعینات کیا جاسکے۔

عمومی طور پر حکومت یہ تعیناتیاں اٹارنی جنرل کی مشاورت سے کرتی ہے جو اعلیٰ عدلیہ میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:فروغ نسیم نے انور منصور خان سے معافی مانگ لی

ملک کے مختلف شہروں میں ڈپٹی اٹارنی جنرلز اور اسٹینڈنگ کونسل کی متعدد آسامیاں خالی ہیں، کراچی میں 2 اور پشاور میں ایک اور کچھ آسامیاں لاہور اور کوئٹہ میں ہیں، یہ لا آفیسرز صوبائی ہائی کورٹس میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

فروغ نسیم کے پیش ہونے پر تعجب ہے، صدر سپریم کورٹ بار

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن قلب حسن نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فل کورٹ کے سامنے وزیرقانون کے پیش ہونے پر اپنے بیان میں کہا کہ آج کی سماعت میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے بطور وکیل پیش ہونے پر شدید تعجب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت سے مستعفی ہوئے بغیر فروغ نسیم کسی عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے، وفاقی وزیر کا حلف اٹھانے کے بعد قواعد کے مطابق ان کا لائسنس معطل ہے۔

قلب حسن کا کہنا تھا کہ فروغ نسیم کی جانب سے عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش پر تشویش ہے اور اب ان کی وکلا برادری کو بھی تقسیم کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔