'حوریں نظر آنے لگیں':وزیراعظم پر پروگرام کرنے والوں کےخلاف کارروائی کی درخواست

24 فروری 2020

ای میل

ویڈیو کلپ میں کوکین اور حور جیسے شرمناک الفاظ کا استعمال کرکے نوجوانوں کو بھڑکایا گیا، درخواست میں موقف — فائل فوٹو / ڈان نیوز
ویڈیو کلپ میں کوکین اور حور جیسے شرمناک الفاظ کا استعمال کرکے نوجوانوں کو بھڑکایا گیا، درخواست میں موقف — فائل فوٹو / ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک رکن نے وزیر اعظم عمران خان کے حوالے سے نجی چینل پر پروگرام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں درخواست دائر کردی۔

تحریک انصاف کے رکن شوکت علی جوئیہ کی جانب سے ایف آئی اے سائبر کرائم ونِگ کے ڈائریکٹر کو لکھی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ 29 جنوری کی رات 9 بجکر 32 منٹ پر خالد بٹ نے، جس کا اصل نام مرتضیٰ چوہدری ہے، اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو کلپ جس پر 'نیو نیوز' کا لوگو بھی موجود تھا شیئر کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسی تاریخ کو نیو نیوز نے رات 11 بجے اس ویڈیو کلپ سے منسلک ایک پروگرام نشر کیا۔

پی ٹی آئی رکن نے کہا کہ اس ویڈیو کلپ میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نشے کے عادی ہیں جو کہ اپنے آپ کو نشہ اور ٹیکہ لگا رہے ہیں اور وہی نشہ آور ٹیکہ میزبان کو بھی لگانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر نشر کیے جانے اس ویڈیو کلپ میں وزیر اعظم کی تضحیک کی گئی اور ٹوئٹ کا عنوان 'وزیر اعظم نے لائیو ٹیکہ لگا کر ناقدین کو جواب دے دیا' جھوٹ، بدنیتی اور الزام تراشی پر مبنی تھا جس کا مقصد عمران خان کی تضحیک کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ویڈیو کلپ میں کوکین اور حور جیسے شرمناک الفاظ کا استعمال کرکے نوجوانوں کو بھڑکایا گیا اور مصطفیٰ چوہدری نے منشیات زدہ شخص کی طرح اداکاری کی۔

یہ بھی دیکھیں: 'حوروں والا ٹیکا ہمیں بھی لگائیں'

درخواست میں ڈائریکٹر ایف آئی سے درخواست کی گئی ہے کہ اس ویڈیو کلپ کی تیاری، اداکاری اور اس تضحیک آمیز ویڈیو کلپ کو نشر کرنے والے تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ 27 جنوری 2020 کو کراچی میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے 2013 میں انتخابی مہم کے دوران لفٹ سے گر کر زخمی ہونے اور اپنی تکلیف کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'اُس وقت شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم نے مجھے ایسا انجیکشن لگایا جس سے نہ صرف تکلیف ختم ہوگئی بلکہ دنیا ہی بدل گئی اور وہاں موجود نرسیں مجھے حوریں نظر آنا شروع ہوگئیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ ’انجیکشن کے بعد لگا کہ مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے، میں ٹی وی پر تقریر بھی کردی لیکن یاد ہی نہیں میں نے کیا کہا، جب اس انجیکشن کا اثر زائل ہوا تو مجھے پھر تکلیف شروع ہوگئی اور میں نے ڈاکٹر عاصم پر زور دیا کہ وہ مجھے وہ ٹیکہ پھر سے لگا دیں اور ساتھ ہی انہیں دھمکایا بھی کہ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا لیکن انہوں نے مجھے ٹیکہ نہیں لگایا۔‘

ان کی یہ تقریر بالخصوص 'ٹیکہ کے اثر سے حوریں نظر آنے والی' بات سوشل میڈیا پر زیر گردش رہی اور صارفین میں سے کسی نے وزیر اعظم اور ان کی اس بات کا مذاق بنایا تو دیگر نے ان پر تنقید کی۔