بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے برآمدکنندگان کا اہم مطالبہ منظور

اپ ڈیٹ 27 فروری 2020

ای میل

’اجلاس میں توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے تمام غیر معمولی مسائل حل کرلیے گئے ہیں — فائل فوٹو: اے پی پی
’اجلاس میں توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے تمام غیر معمولی مسائل حل کرلیے گئے ہیں — فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ٹیکسٹائل انڈسٹری سمیت شعبہ برآمدات کی جانب سے کیے گئے بجلی کی قیمتوں سے متعلق اور دیگر مطالبات منظور کرلیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت ٹیکسٹائل سمیت زیرو ریٹڈ انڈسٹری کو رواں برس 30 جون تک 7 روپے 50 پیسے فی یونٹ کی قیمت پر بجلی اور 6.5 ڈالر فی یونٹ (ملین برٹش تھرمل یونٹ یا ایم ایم بی ٹی یو) پر گیس فراہم کی جائے گی۔

اس ضمن میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیف ایگزیکٹو افسر شاہد ستار نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت فوری طور پر جنوری 2019 سے جاری کردہ بجلی کے بلز سے دستبردار ہوجائے گی جس میں متعدد سرچارجز، سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹس اور ایندھن کی قیمتوں کا ردو بدل شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کی معاشی پالیسی میں ’اچانک یوٹرنز‘ سے صنعتیں مایوس

ان فیصلوں کے مجموعی اثرات کا تخمینہ تقریباً 50 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

شاہد ستار نے بتایا کہ حکومت نے براہ راست نجی شعبے کے ذریعے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کرنے کی اجازت کا مطالبہ بھی تسلیم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبے کے 8-10 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے مقابلے میں نجی شعبے کے ذریعے ایل این جی 5.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں دستیاب ہوگی۔

حکومت، اپٹما اور زیرو ریٹڈ صنعتوں کے وفد سے ملاقات کے بعد محکمہ توانائی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’اجلاس میں توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے تمام غیر معمولی مسائل حل کرلیے گئے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: ٹیکسٹائل صنعتکاروں کو برآمدات پر رعایت نہ ملنے کی شکایت

اجلاس میں شریک حکومتی ٹیم میں وزیر توانائی و پیٹرولیم عمر ایوب خان، وزیر اقتصادی امور حماد اظہر، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابار، مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد اور گورنر پنجاب چوہدری سرور شامل تھے۔

بیان کے مطابق اجلاس میں ٹیکسٹائل اور زیرو ریٹڈ انڈسٹریز کے حوالے سے تمام معاملات پر گفتگو ہوئی اور حکومتی ٹیم نے ملک کی بہتر معاشی نمو کے لیے ان صنعتوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

مزید یہ کہ ’اس بات فیصلہ کیا گیا کہ حکومت آئندہ برس کے بجٹ میں توانائی اور پیٹرولیم کے لیے 20 ارب روپے کی اضافی سبسڈی فراہم کرے گی‘۔

شاہد ستار کا کہنا تھا کہ شعبہ برآمدات نے حکومت کو بتایا کہ اگر انہیں اپنے ذرائع سے ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دے دی جائے تو انہیں آئندہ برس اضافی سبسڈی کی ضرورت نہیں پڑے گی‘۔

یہ بھی پڑھیں: صنعتوں کیلئے ٹیکس میں کمی کا تنازع: حکومت، ایکسپورٹرز آمنے سامنے آگئے

خیال رہے کہ برآمداتی صنعتیں توانائی کمپنیوں کی جانب سے زائد قیمتوں والے بل، جن کا اطلاق بھی جنوری 2019 سے کیا گیا، جاری کرنے کی وجہ سے برآمداتی صنعتیں گزشتہ 2 ماہ سے حکومت کو کارخانے اور کاروبار بند کرنے کی دھمکی دے رہی تھیں۔

قبل ازیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و مالیات نے برآمداتی صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو معطل کرنے کا حکم دیا تھا اور مذکورہ معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھایا تھا۔