اظہار رائے پر پابندی نہیں لگا سکتے، لاہور ہائی کورٹ کے عورت مارچ کیس میں ریمارکس

اپ ڈیٹ 27 فروری 2020

ای میل

آئندہ ماہ 8 مارچ کو ملک کے مختلف علاقوں میں عورت مارچ کا اعلان کیا گیا ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی
آئندہ ماہ 8 مارچ کو ملک کے مختلف علاقوں میں عورت مارچ کا اعلان کیا گیا ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور ہائی کورٹ نے آئندہ ماہ 8 مارچ کو ہونے والے ’عورت مارچ‘ کو رکوانے کے لیے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ عدالت ’اظہار رائے پر پابندی نہیں لگا سکتی‘۔

لاہور ہائی کورٹ میں رواں ماہ 24 فروری کو عورت مارچ کے خلاف جوڈیشل ایکٹیوزم کونسل کے چیئرمین اظہر صدیقی نے درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی تھی کہ مارچ کو روکنے کا حکم دیا جائے۔

اظہر صدیقی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ ملک میں انتشار اور عریانیت پھیلانے کے لیے عورت مارچ کو ریاست مخالف تنظیمیں اور پارٹیاں فنڈز فراہم کر رہی ہیں۔

عدالت میں دائر کردہ درخواست میں عورت مارچ کو اسلام کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے خفیہ منصوبے سے بھی تشبیہ دی گئی تھی اور ساتھ ہی کہا گیا تھا کہ اس مارچ کا مقصد عریانیت پھیلانا ہے۔

درخواست میں وکیل اظہر صدیقی نے لکھا تھا کہ گزشتہ سال ہونے والے عورت مارچ کے شرکا نے قابل اعتراض پیغامات والے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ: عورت مارچ رکوانے کی درخواست سماعت کیلئے منظور

اظہر صدیقی کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے اور پولیس کو 27 فروری کو طلب کرتے ہوئے وضاحت مانگی تھی۔

آج ہونے والی سماعت میں ڈائریکٹر ایف آئی اے عبدالرب اور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور عدالت میں پیش ہوئے جب کہ درخواست گزار اظہر صدیقی سمیت عورت مارچ کے حق میں نامور وکلا حنا جیلانی اور نگہت داد بھی پیش ہوئیں۔

اظہر صدیقی کی درخواست پر چیف جسٹس مامون الرشید کی سربراہی میں قائم بینج نے سماعت کی اس دوران عورت مارچ کے حق میں دلائل دینے والی وکیل حنا جیلانی نے عدالت کو بتایا کہ وہ صرف خواتین کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے عورت مارچ کرنا چاہتے ہیں۔

حنا جیلانی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس مرتبہ عورت مارچ اتوار والے دن یعنی عام تعطیل کے دن پر منعقد ہوگا جس سے ملکی معیشت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

انہوں نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خواتین ایسے ہی منہ اٹھا کر تو مارچ نہیں کر رہیں۔

عورت مارچ کے خلاف درخواست دائر کرنے والے وکیل اظہر صدیقی نے اپنے دلائل میں کہا کہ ان کا مقصد عورت مارچ رکوانا نہیں ہے، اس ضمن میں پچھلے سال کے عورت مارچ کے پوسٹرز دیکھیں اور اندازا لگائیں کہ کیا ہوا تھا۔

اظہر صدیقی کے دلائل کے بعد حنا جیلانی نے عدالت سے سوال کیا کہ درخواست گزار کا عورت مارچ سے کیا تعلق ہے اور وہ کیوں اس کی تشہیر پر سوشل میڈیا میں پابندی چاہتے ہیں۔

اسی دوران عدالت میں ایک اور وکیل کی جانب سے بات کیے جانے پر چیف جسٹس نے برہم ہوتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے کریں گے تو وہ کیس نہیں سنیں گے۔

عدالت نے عورت مارچ کی سیکیورٹی کے حوالے سے پولیس سے استفسار کیا کہ انہوں نے عورت مارچ کی سیکیورٹی کے کیا انتطامات کیے ہیں؟

جس پر حنا جیلانی نے عدالت کو بتایا تھا کہ گزشتہ سال بھی عورت مارچ پر امن ہوا تھا اور اس بار بھی پر امن ہوگا۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت صرف سرکاری اداروں کا مؤقف جاننا چاہتی ہے اور اسی لیے پولیس اور ایف آئی اے عورت مارچ کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے عدالت میں رپورٹ جمع کرائیں۔

ساتھ ہی چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں ہونے چاہیے۔

خیال رہے کہ اس سال بھی خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی مختلف تنظیموں نے لاہور کے علاوہ، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، کراچی، حیدرآباد، سکھر، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے بڑے اور اہم شہروں میں 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر ’عورت مارچ‘ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

گزشتہ سال پہلی مرتبہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ’عورت مارچ‘ منعقد ہوا تھا جس میں بڑی تعداد میں خواتین و لڑکیاں شامل ہوئی تھیں۔

کراچی سے لے کر لاہور اور اسلام آباد سے لے کر حیدرآباد تک ہونے والے عورت مارچ میں خواتین نے درجنوں منفرد نعروں کے بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں کچھ متنازع بینرز بھی شامل تھے جن کی وجہ سے عورت مارچ پر تنقید بھی کی گئی۔