پشاور: 14 سالہ لڑکی کے ریپ اور جنسی ہراساں کرنے کے جرم میں ماموں، بھائی کو قید

01 مارچ 2020

ای میل

عدالت کے مطابق پروسیکیوشن ملزمان پر الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے — فائل فوٹو: کریٹو کامن
عدالت کے مطابق پروسیکیوشن ملزمان پر الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے — فائل فوٹو: کریٹو کامن

پشاور: چائلڈ پروٹیکشن کورٹ نے ریپ اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے کیس میں متاثرہ لڑکی کے ماموں اور بھائی کو قید کی سزا سنا دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے 14 سالہ متاثرہ لڑکی کے ماموں کو عمر قید جبکہ اس کے بھائی کو 20 سال تک قید کی سزا سنائی۔

اس کے علاوہ جج وحیدہ مشتاق ملک نے لڑکی پر جسم فروشی کے لیے دباؤ ڈالنے پر ان کی والدہ کو 20 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ پروسیکیوشن ملزمان، لڑکی کے ماموں مزمل، بھائی فضل اور والدہ بیگمہ، پر لگائے گئے الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ریپ متاثرہ 14 سالہ لڑکی کے ہاں بیٹی کی پیدائش، دونوں چائلڈ پروٹیکشن بیورو منتقل

پروسیکیوشن کی جانب سے دونوں مرد ملزمان پر پاکستان پینل کوڈ ( پی پی سی ) کی دفعہ 276 (ریپ) اور خاتون ملزمہ پر دفعہ 371 اے (جسم فروشی کے لیے دباؤ) کے تحت الزامات عائد کیے تھے۔

عدالت نے ملزم مزمل کو اپنی بھانجی کے ریپ اور پی پی سی کی دفعہ 376 کے تحت عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

علاوہ ازیں لڑکی کے بھائی فضل پر ریپ کا الزام ثابت نہیں ہوا جبکہ ملزم پر لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہوا جس پر عدالت نے پی پی سی کی دفعہ 337 بی کے تحت ملزم کو 20 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

واقعے کی ایف آئی آر پہاری پورہ تھانے میں 29 ستمبر 2018 کو درج کی گئی تھی، ابتدائی طور پر لڑکی کی والدہ نے تھانے میں پہنچ کر اپنے بیٹے اور بیٹی پر جنسی تعلقات قائم کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کرم ایجنسی: 5 سالہ بچی کے ریپ، قتل کے الزام میں مزید 9 افراد گرفتار

تاہم پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ جب وہ خاتون کے گھر پہنچے تو 14 سالہ لڑکی نے انکشاف کیا کہ ان کی والدہ ان پر اور ان کی چھوٹی بہن پر جسم فروشی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔

لڑکی نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ ماموں اور بھائی نے ان کے ساتھ ریپ کیا ہے۔

دوران سماعت متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ماموں نے ان کا ریپ کیا جبکہ بھائی نے جنسی تعلقات قائم کرنے کے لیے اسے جنسی طور پر ہراساں کیا۔

لڑکی نے یہ بھی بتایا کہ ان کی والدہ انہیں جسم فروشی کے اڈے پر بھی لے کر گئیں اور اس وقت لڑکی کی عمر 5 سے 6 سال کے درمیان تھی اور جنسی حملے کی وجہ سے وہ بے ہوش بھی ہوگئی تھیں۔

دوسری جانب ملزمان کے وکیل نے پروسیکیوشن کے دعوؤں کی تردید کی اور کہا کہ ملزمان کی سزا کے لیے مذکورہ جرم کو کافی نہیں سمجھا جاسکتا۔

مزید پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ: جنسی استحصال کرنے والے شخص کے قتل پر بچے کی سزا برقرار

انہوں نے کہا کہ ملزمان پولیس کی حراست میں موجود ہیں لیکن کسی نے بھی اپنے جرم کا اعتراف نہیں کیا۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ پروسیکیوشن کے مؤقف میں ابہام ہے کیونکہ وہ متاثرہ لڑکی کی بہن، جس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس کا بھی مبینہ طور پر ریپ کیا گیا، کو عدالت میں گواہ کے طور پر پیش کرنے سے قاصر رہی ہے۔

علاوہ ازیں ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ لڑکی اور اس کی بہن کی میڈیکل رپورٹ میں الزامات ثابت ہوئے ہیں۔