نیب نے خورشید شاہ کے وفات پانے والے بھائی کو بھیجا گیا نوٹس واپس لے لیا

اپ ڈیٹ 02 مارچ 2020

ای میل

خورشید شاہ کو نیب نے گزشتہ برس گرفتار کیا تھا—فائل/فوٹو:ڈان
خورشید شاہ کو نیب نے گزشتہ برس گرفتار کیا تھا—فائل/فوٹو:ڈان

قومی احتساب بیورو (نیب) نے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی ہدایت پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما خورشید احمد شاہ کے وفات پانے والے بھائی سید علی نواز شاہ کو طلبی کے لیے بھیجا گیا نوٹس واپس لے لیا۔

نیب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ‘سکھر سے رکن قومی اسمبلی سید خورشید علی شاہ، ان کے اہل خانہ، بے نامی دار اور دیگر کے خلاف ذرائع سے زائد آمدن کے الزامات پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تفتیش کر رہی ہے’۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ سید خورشید احمد شاہ بشمول سید علی نواز شاہ دیگر شراکت داروں کے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں رجسٹرڈ شاہ اسپننگ ملز لمیٹڈ کے حصہ دار ہیں’۔

نیب نے وضاحتی بیان میں کہا کہ ‘اسی سلسلے میں شاہ اسپننگ ملز لمیٹڈ کے شراکت داروں کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے نوٹسز بھیجے گئے جس میں سید علی نواز شاہ بھی شامل تھے’۔

یہ بھی پڑھیں:خورشید شاہ کےخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس سماعت کیلئے منظور

طلبی کے لیے بھیجے گئے نوٹسز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘نیب سکھر کے علم میں نہیں تھا کہ سید علی نواز شاہ وفات پاچکے ہیں اسی لیے نیب چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی ہدایت پر فوری طور پر نوٹس کو واپس لیا جاتا ہے’۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘چیئرمین نیب نے تحقیقات اور اس غلطی کے ذمہ دار کی نشان دہی کرنے کا حکم دیا ہے’۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر نیب کی جانب سے مرحوم سید نواز علی شاہ کو بھیجے گئے نوٹس پر تنقید کی گئی تھی جس کے بعد نیب کی جانب سے وضاحت سامنے آئی ہے۔

سوشل میڈیا میں گردش کرنے والا نیب کا نوٹس 25 فروری 2020 کو جاری کیا گیا تھا اور 8 برس قبل وفات پانے والے سید نواز علی شاہ کو جے آئی ٹی کے سامنے 3 مارچ 2020 کو نیب سکھر کے دفتر میں پیش ہونے کی درخواست کی گئی تھی۔

نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اگر آپ اس حکم کی تعمیل کرنے میں ناکام ہوئے تو نیب آرڈیننس 1999 کے تحت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں:پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنما خورشید شاہ گرفتار

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی سمیت سوشل میڈیا صارفین نے نیب کے نوٹس پر تنقید کی۔

سعید غنی نے لکھا کہ ‘سید خورشید شاہ کے 8 سال قبل انتقال کر جانے والے بھائی کو تحقیقات کے لیے نوٹس جاری کرنے والے ڈی جی نیب سکھر کو وہیں بھیجنا چاہیے تاکہ وہ مرحوم سے تحقیقات کرکے خورشید شاہ کے خلاف الزام ثابت کر سکیں’۔

بعض صارفین نے کہا کہ ‘نیب، پی پی پی رہنما خورشید شاہ کے 8 سال قبل وفات پانے والے بھائی کو نوٹس بھیج رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے لاڈلے اور اتحادیوں کے مقدمات ختم کیے جارہے ہیں’۔

خیال رہے کہ پی پی پی رہنما خورشید شاہ کو نیب نے گزشتہ برس اگست میں حراست میں لے کر سکھر منتقل کردیا تھا اور ان کے خلاف ریفرنس بھی دائر کردیا گیا تھا جو زیر سماعت ہے۔

خورشید شاہ کے خلاف تحقیقات

نیب نے رکن قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے خلاف 31 جولائی کو انکوائری کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اگست میں تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا تھا۔

پی پی پی رہنما پر ہاؤسنگ سوسائٹی میں فلاحی پلاٹ حاصل کرنے کا الزام ہے جبکہ بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی اپنے فرنٹ مین یا ملازمین کے نام پر بے نامی جائیدادیں بھی ہیں۔

نیب کے مطابق خورشید شاہ کے خلاف انکوائری میں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 9 (اے) اور شیڈول کے تحت بیان کردہ جرائم کے کمیشن میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

اگست میں احتساب کے ادارے نے سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ پر مبینہ کرپشن کے ذریعے 500 ارب روپے سے زائد کے اثاثے بنانے کا الزام عائد کیا تھا لیکن پی پی پی کے رہنما نے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

نیب ذرائع نے بتایا تھا کہ خورشید شاہ اور ان کے اہلخانہ کے کراچی، سکھر اور دیگر علاقوں میں 105 بینک اکاؤنٹس موجود ہیں، اس کے علاوہ پی پی رہنما نے اپنے مبینہ فرنٹ مین ’پہلاج مل‘ کے نام پر سکھر، روہڑی، کراچی اور دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر 83 جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔

ان دستاویز میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے پہلاج رائے گلیمر بینگلو، جونیجو فلور مل، مکیش فلور مل اور دیگر اثاثے بھی بنا رکھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثے: خورشید شاہ عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل

اس ضمن میں مزید بتایا گیا تھا کہ خورشید شاہ نے مبینہ فرنٹ مین لڈو مل کے نام پر 11 اور آفتاب حسین سومرو کے نام پر 10 جائیدادیں بنائیں۔

مذکورہ ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے اپنے مبینہ ’فرنٹ مین‘ کے لیے امراض قلب کے ہسپتال سے متصل ڈیڑھ ایکڑ اراضی نرسری کے لیے الاٹ کرائی، اس کے علاوہ خورشید شاہ کی بے نامی جائیدادوں میں مبینہ طور پر عمر جان نامی شخص کا بھی مرکزی کردار رہا جس کے نام پر بم پروف گاڑی رجسٹرڈ کروائی گئی جو سابق اپوزیشن لیڈر کے زیر استعمال رہی۔

اس کے علاوہ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں خورشید شاہ کا زیر استعمال گھر بھی عمر جان کے نام پر ہے اور سکھر سمیت دیگر علاقوں میں تمام ترقیاتی منصوبے عمر جان کی کمپنی کو فراہم کیے گئے۔

یاد رہے کہ خورشید شاہ بھی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل، مریم نواز اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز سمیت اپوزیشن رہنماؤں کی اس طویل فہرست میں شامل ہیں جو کرپشن کے الزامات پر زیر حراست یا ضمانت پر ہیں۔