ٓمقدمات کے باعث ایف بی آر 88 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کرنے سے قاصر

اپ ڈیٹ 05 مارچ 2020

ای میل

ٹیکس دہندگان نے کسٹمز، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ سمیت دیگر ٹریبیونلز میں انکم ٹیکس دعوؤں کو چیلنج کر رکھا ہے — فائل فوٹو:اے ایف پی
ٹیکس دہندگان نے کسٹمز، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ سمیت دیگر ٹریبیونلز میں انکم ٹیکس دعوؤں کو چیلنج کر رکھا ہے — فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: انکم ٹیکس وصولی سے متعلق عدالتی مقدمات کی وجہ سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ٹیکس دہندگان سے 87 ارب 42 کروڑ روپے وصول کرنے سے قاصر ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں پیش کی گئی آڈٹ رپورٹ کے مطابق کثیر تعداد میں رقم اس لیے پھنسی ہوئی ہے کیونکہ ٹیکس دہندگان نے کسٹمز، ایکسائز اور سیلز ٹیکس ٹریبیونلز، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں انکم ٹیکس دعوؤں کو چیلنج کر رکھا ہے۔

ایف بی آر کی نگراں چیئرپرسن نوشین جاوید امجد نے پی اے سی کو بتایا کہ بیورو اس رقم کو اس لیے برآمد نہیں کرواسکتا کیونکہ دعوؤں کے خلاف 96 کیسز زیر التوا ہیں اور چند کیسز ہائی کورٹس میں 2011 اور 2012 سے زیر التوا ہیں۔

مزید پڑھیں: آپ اپنے انکم ٹیکس ریٹرن خود کیسے بھر سکتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے معاملہ سندھ، لاہور اور اسلام آباد ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کے سامنے اٹھایا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے ٹیکس سے متعلق معاملات پر خصوصی بینچ تشکیل دیا جائے۔

اس پر پی اے سی کے چیئرمین رانا تنویر حسین نے کہا کہ ٹیکسز کی تیزی سے وصولی سے ٹیکس وصولی کا بہت بڑا فقدان کم ہوگا۔

دوران اجلاس ایف بی آر کے قانونی مشیر نے پی اے سی کو آگاہ کیا کہ 65 انکم ٹیکس سے متعلق مقدمات ٹریبونلز میں، 27 ہائی کورٹ میں اور 4 سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

ادھر آڈٹ رپورٹ میں ایف بی آر کے کھاتوں میں 14 کروڑ 22 لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو مالی سال 13-2012 کے تھے۔

اس سے قبل، پی اے سی نے ایوی ایشن کے سیکریٹری حسن ناصر جامی پر تنقید کی کیوں کہ وہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متوازی رن وے کی تعمیر سے متعلق کمیٹی کو مطمئن نہیں کرسکے تھے۔

کمیٹی کے سامنے پیش کردہ ایک آڈٹ رپورٹ میں بین الاقوامی معیارات اور تجویز کردہ طرز عمل-ایرو ڈروم ڈیزائن اور آپریشنز کا حوالہ دیا گیا جس کے مطابق 'جہاں متوازی رن وے بیک وقت استعمال کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں، ان کی سینٹر لینز کے درمیان فاصلہ کم از کم ایک کلومیٹر ہونا چاہیے'۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکس کے تمام معاملات نیب نہیں ایف بی آر دیکھے گا، شہزاد اکبر

تاہم آڈٹ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے دونوں رن وے کی سینٹر لائنز کے درمیان 210 میٹر کے فاصلے پر مرکزی رن وے کے متوازی ایک ثانوی رن وے تعمیر کیا تھا۔

آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 'سیکنڈری رن وے پر بلاجواز اخراجات' سے قومی خزانے کو 71 کروڑ 90 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔

حسن نثار جامی نے کمیٹی کو بتایا کہ متوازی رن وے بیک وقت لینڈنگ کے لیے نہیں تھا بلکہ اسے متبادل رن وے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں آڈیٹرز نے اس جواب کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'رن وے اور ٹیکسی وے کی خصوصیات میں بہت زیادہ فرق ہے اور متوازی ٹیکسی وے کے علاوہ سیکنڈری رن وے کی تعمیر کے لیے سی اے اے آپریشنز ڈائریکٹریٹ کی تجاویز اور تعداد کے بل میں کوئی بات موجود نہیں ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کمیٹی کو بتایا کہ اس نے اس معاملے کی تحقیقات کو حتمی شکل دے دی ہے اور غفلت کے مرتکب عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی منظوری کے لیے وزارت داخلہ سے منظوری درکار ہے۔

تاہم کمیٹی نے سیکریٹری ایوی ایشن کو ہدایت کی کہ وہ اس طرح کی لاپرواہی کی ذمہ داری طے کریں اور 15 روز میں اس سلسلے میں رپورٹ پیش کریں۔