کورونا وائرس کا خطرہ، ٹوئٹر کے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت

12 مارچ 2020

ای میل

کمپنی نے ملازمین کو ان ہدایت پر لازمی عمل کی تلقین کردی — فوٹو: اے ایف پی
کمپنی نے ملازمین کو ان ہدایت پر لازمی عمل کی تلقین کردی — فوٹو: اے ایف پی

دنیا بھر میں کورونا کے بڑھتے ہوئے خطرے کو دیکھتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے اپنے 4 ہزار 900 ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کردی۔

ٹوئٹر کی ایک رکن نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ کمپنی نے اپنے ملازمین کو اس ہدایت پر لازمی عمل کرنے کی تلقین کی ہے کیوں کہ یہ کمپنی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی حمایت کرے۔

پوسٹ میں مزید لکھا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے لیکن یہ وقت بھی غیر معمولی ہی ہے'۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے باوجود رائیونڈ تبلیغی اجتماع جاری

کمپنی کے مطابق ملازمین کو ان کے معاہدے، کام کرنے کے گھنٹے اور دیگر خدمات کا معاوضہ ویسے ہی دیا جائے گا جیسے دفاتر آنے پر دیا جارہا تھا۔

اس سے قبل ٹوئٹر نے جنوبی کوریا، ہانگ کانگ اور جاپان میں موجود عملے کے لیے گھر سے کام کرنے کی پابندی لگائی تھی جبکہ 'غیر ضروری' کاروباری سفر بھی منسوخ کردیے تھے۔

خیال رہے کہ ٹوئٹر وہ واحد کمپنی نہیں جس نے کورونا وائرس کے باعث یہ اقدام اٹھایا، ایمازون اور گوگل سمیت کئی ٹیکنالوجی فرمز نے کچھ ممالک میں اپنے دفاتر میں موجود ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔

رواں ماہ فیس بک نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے سنگاپور سے آنے والے ملازم میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد اپنا لندن کا دفتر بند کردیا۔

فیس بک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ 'سنگاپور کے دفتر کے ایک ملازم، جس نے حال ہی میں لندن کے دفتر کا دورہ کیا تھا، اس میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اس وجہ سے اپنا لندن کا دفتر پیر تک کے لیے بند کر رہے ہیں تاکہ صفائی کی جاسکے جبکہ اس وقت تک ملازمین اپنے گھر سے کام کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کے نتیجے میں آئی فونز کی فروخت میں نمایاں کمی

خیال رہے کہ چین سے پھیلنے والے نئے کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اب تک ایک لاکھ 2 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 3 ہزار 400 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

جہاں اس بیماری سے دنیا میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے وہیں اب تک 57 ہزار افراد اس سے مکمل صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس ایک عام وائرل ہونے والا وائرس ہے جو عام طور پر ایسے جانوروں کو متاثر کرتا ہے جو بچوں کو دودھ پلاتے ہیں تاہم یہ وائرس سمندری مخلوق سمیت انسانوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

اس وائرس میں مبتلا انسان کا نظام تنفس متاثر ہوتا ہے اور اسے سانس میں تکلیف سمیت گلے میں سوزش و خراش بھی ہوتی ہے اور اس وائرس کی علامات عام نزلہ و زکام یا گلے کی خارش جیسی بیماریوں سے الگ ہوتی ہیں۔

کورونا وائرس کی علامات میں ناک بند ہونا، سردرد، کھانسی، گلے کی سوجن اور بخار شامل ہیں اور چین کے مرکزی وزیر صحت کے مطابق 'اس وبا کے پھیلنے کی رفتار بہت تیز ہے، میں خوفزدہ ہوں کہ یہ سلسلہ کچھ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے اور کیسز کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے'۔

وائرس کے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد چین کے کئی شہروں میں عوامی مقامات اور سینما گھروں سمیت دیگر اہم سیاحتی مقامات کو بھی بند کردیا گیا تھا جب کہ شہریوں کو سخت تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: کیا نوول کورونا وائرس اسمارٹ فون اسکرین پر زندہ رہ سکتا ہے؟

اس کے علاوہ متعدد شہروں کو قرنطینہ میں تبدیل کرتے ہوئے عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی اور نئے قمری سال کی تعطیلات میں اضافہ کر کے تعلیمی اداروں اور دیگر دفاتر کو بند رکھا گیا تھا۔

واضح رہے کسی کورونا وائرس کا شکار ہونے پر فلو یا نمونیا جیسی علامات سامنے آتی ہیں جبکہ اس کی نئی قسم کا اب تک کوئی ٹھوس علاج موجود نہیں مگر احتیاطی تدابیر اور دیگر ادویات کی مدد سے اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

کورونا وائرس کے حوالے سے مزید خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔