کورونا وائرس کی صورتحال پر جلد قوم سے خطاب کروں گا، وزیر اعظم

14 مارچ 2020
احتیاط کی ضرورت ہے، گھبراہٹ کی نہیں، وزیر اعظم عمران خان — فائل فوٹو / انسٹاگرام
احتیاط کی ضرورت ہے، گھبراہٹ کی نہیں، وزیر اعظم عمران خان — فائل فوٹو / انسٹاگرام

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال پر جلد قوم سے خطاب کروں گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ 'کورونا وائرس سے نمٹنے کے اقدامات کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہا ہوں اور جلد صورتحال پر قوم سے خطاب کروں گا۔'

انہوں نے کہا کہ قوم سے درخواست ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، احتیاط کی ضرورت ہے، گھبراہٹ کی نہیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خطرات سے آگاہ ہیں اور نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے ہیں، عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے اقدامات کو سراہا ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے سامنے آنے والے کیسز کی مجموعی تعداد 31 ہو چکی ہے۔

ملک میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز صوبہ سندھ میں آئے ہیں، جس کے بعد بلوچستان کے مریضوں کی تعداد ہے۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے پہلا بیان سامنے آیا ہے۔

انہیں صف اول میں آکر اس وبا سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بات نہ کرنے پر اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاکستان میں کورونا وائرس

  • پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا۔

  • 26 فروری کو ہی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مجموعی طور پر 2 کیسز کی تصدیق کی۔

  • 29 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مزید 2 کیسز کی تصدیق کی، جس سے اس وقت تعداد 4 ہوگئی تھی۔ 3 مارچ کو معاون خصوصی نے کورونا کے پانچویں کیس کی تصدیق کی۔

  • 6 مارچ کو کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا، جس سے تعداد 6 ہوئی۔

  • 8 مارچ کو شہر قائد میں ہی ایک اور کورونا وائرس کا کیس سامنے آیا۔

  • 9 مارچ کو ملک میں ایک ہی وقت میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے 9 کیسز کی تصدیق کی گئی تھی۔

  • 10 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے 3 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے دو کا تعلق صوبہ سندھ اور ایک کا بلوچستان سے تھا، جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 19 جبکہ سندھ میں تعداد 15 ہوگئی تھی۔

بعد ازاں سندھ حکومت کی جانب سے یہ تصحیح کی گئی تھی 'غلط فہمی' کے باعث ایک مریض کا 2 مرتبہ اندراج ہونے کے باعث غلطی سے تعداد 15 بتائی گئی تھی تاہم اصل تعداد 14 ہے، اس تصحیح کے بعد ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 10 مارچ تک 18 ریکارڈ کی گئی۔

  • 11 مارچ کو اسکردو میں ایک 14 سالہ لڑکے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد مجموعی تعداد 19 تک پہنچی تھی۔

  • 12 مارچ کو گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں ہی ایک اور کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد 20 تک جاپہنچی تھی۔

  • 13 مارچ کو اسلام آباد سے کراچی آنے والے 52 سالہ شخص میں کورونا کی تصدیق کے بعد تعداد 21 ہوئی تھی، بعدازاں اسی روز ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران تفتان میں مزید 7 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 28 ہوگئی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں