علما کی عوام کو وائرس سے حفاظتی تدابیر اپنانے کی تجویز

اپ ڈیٹ 16 مارچ 2020

ای میل

پاکستان علما کونسل کی جانب سے جاری بیان میں عوام سے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کا کہا گیا — فائل فوٹو: ڈان
پاکستان علما کونسل کی جانب سے جاری بیان میں عوام سے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کا کہا گیا — فائل فوٹو: ڈان

دارالافتاء پاکستان، پاکستان علما کونسل (پی یو سی) اور وفاق المساجد، مدارس پاکستان کی قیادت نے متفقہ طور پر کورونا وائرس کے لیے حفاظتی تدابیر کے طور پر حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات کو شریعہ کے مطابق قرار دیتے ہوئے عوام سے اس پر عمل کرنے کا کہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی یو سی قیادت اور دیگر اہم مذہبی اسکالرز بشمول حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مولانا اسد زکریا، علامہ عبدالحق مجاہد، مولانا رفیق جامی اور دیگر نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس وبا بن گیا ہے اور پوری دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ 'وبا سے بچنے کے لیے یہ سب کے لیے ضروری ہے کہ حفاظتی تدابیر اپنائیں، مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اللہ پر بھروسہ ہونے کے ساتھ ساتھ حفاظتی تدابیر بھی اپنانی چاہیے'۔

مزید پڑھیں: سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد 76 تک پہنچ گئی

ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے علما کا کہنا تھا کہ حضرت محمد ﷺ نے کہا تھا کہ 'طاعون (وبائی مرض) ایک عذاب ہے جو بنی اسرائیل یا تم سے پہلے کسی اور قوم پر نازل کیا گیا: چنانچہ جب بھی کسی علاقے میں طاعون پھیلنے کی خبر سنو تو وہاں مت جاؤ اور اگر جس علاقے میں تم موجود ہو اور وہاں پر طاعون پھوٹ پڑے تو وہاں سے ڈر کر باہر مت بھاگو'۔

پاکستان علما کونسل نے کہا کہ ایسے مرض سے احتیاطی تدابیر اپنایا شریعت میں ضروری ہیں اور حکومت اور وزارت صحت کی جانب سے جاری کی گئیں ہدایات اس کے مطابق ہیں اور عوام کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔

مذہبی اسکالرز نے خبردار کیا کہ کورونا وائرس بڑے اجتماعات پر اثر انداز ہوسکتا ہے اس لیے حکومت نے شادی ہالوں میں تقریبات پر پابندی عائد کی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ کم لوگوں پر مشتمل شادی گھروں پر کی جاسکتی ہیں۔

انہوں نے اسکول اور مدرسوں کی بندش کی بھی حمایت کی۔

دارالافتا پاکستان کے مفتیان کرام نے عوام پر زور دیا کہ گھروں میں عبادت کرنا سنت ہے جبکہ مسجد صرف فرض نماز کی ادائیگی کے لیے جایا جائے، عوام سے وضو بھی گھروں میں ہی کرنے کا کہا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس ویکسین پر جرمنی اور امریکا میں کشمکش

انہوں نے مسجد کے اماموں سے جمعے کی نماز اور روزانہ کی نماز مختصر کرنے کا بھی کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ پر عوام مصافحہ کرنے سے بھی گریز کریں۔

انہوں نے عوام کو تجویز دی کہ صدقہ دینے کے ساتھ ساتھ آیت کریمہ کا ورد کریں اور توبہ استغفار کی کثرت کریں۔

پاکستان میں کورونا کے نئے کیسز کی تعداد میں اضافے کے بعد مجموعی تعداد 94 تک پہنچ چکی ہے۔

ملک بھر میں سب سے زیادہ صوبہ سندھ اس وائرس سے متاثر ہوا ہے اور وہاں مجموعی کیسز کی تعداد 76 ہوگئی ہے جس میں سے 2 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔