دنیا بحران کی جانب جارہی ہے، آئی ایم ایف سربراہ کا انتباہ

اپ ڈیٹ 25 مارچ 2020

ای میل

آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹینا جارجیوا کا بیان جی20 وزرا خارجہ کے آن لائن اجلاس کے بعد سامنے آیا - فائل فوٹو:ڈان
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹینا جارجیوا کا بیان جی20 وزرا خارجہ کے آن لائن اجلاس کے بعد سامنے آیا - فائل فوٹو:ڈان

واشنگٹن: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی صدر کرسٹینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے دنیا بحران کی جانب جارہی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں کرسٹینا جارجیوا کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں ان کے حوالے سے کیا گیا کہ وبا کے پھیلاؤ سے اب تک 80 ممالک اس کے نتائج سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف سے رابطہ کرچکے ہیں۔

یہ بیان جی 20 وزرائے خارجہ اور مرکزی بینک کے گورنرز کے درمیان کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے آن لائن اجلاس کے بعد سامنے آیا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، گلگت میں مزید کیسز، ملک میں 990 متاثرین ہوگئے

خیال رہے کہ جی 20 میں دنیا کے با اثر ممالک شامل ہیں۔

ایک اور بیان میں کہا گیا کہ جی20 وزرائے خارجہ اور مرکزی بینک کے گورنرز نے بتایا ہے کہ عالمی معیشت، بحران کی جانب جارہی ہے اور ’مشترکہ مالی اقدام‘ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

کرسٹینا جارجیوا کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پالیسی اقدامات پر توجہ دے رہا ہے تاکہ بحران کے اثرات کو کم کیا جاسکے اور جنہیں مالی ضرورت ہے ان کی مدد کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہنگامی فنانسنگ کو مزید بڑھائیں گے، تقریباً 80 ممالک ہم سے مدد مانگ رہے ہیں اور ہم دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر اس پر کام کر رہے ہیں تاکہ مضبوط مشترکہ رد عمل دیا جاسکے‘۔

انہوں نے دنیا کے امیر ترین ممالک کو یاد دلایا کہ یہی وقت ہے یکجہتی کا اور جی 20 اجلاس کا مرکزی موضوع بھی یہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ماہر نفسیات نے عوام کو کورونا وائرس فوبیا سے خبردار کردیا

انہوں نے کہا کہ ’2020 میں عالمی نمو منفی ہے اور بدترین بحران کا خدشہ ہے اور عالمی مالیاتی بحران کے وقت ہم 2021 میں بحالی کی اُمید کرتے ہیں‘۔

آئی ایم ایف کی سربراہ نے جی 20 اجلاس میں بھی اس نقطے کو نمایاں کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ وبا کو روکنے کے لیے اقدامات حکومت کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے جنہیں اپنے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے وسائل لگانے ہوں گے۔

تاہم آئی ایم ایف کے سربراہ نے خبردار کیا کہ ’وبا کے معاشی اثرات شدید ہوں گے‘ اور اگر وائرس کو فوری روک دیا گیا تو بحالی تیز ہوسکے گی۔