صدر عارف علوی کی علما سے نمازوں کی باجماعت ادائیگی روکنے کی درخواست

25 مارچ 2020

ای میل

ڈاکٹر عارف علوی نے ٹوئٹ میں جامعۃ الازہر کے فتویٰ کی تفصیلات بھی شیئر کیں — فائل فوٹو / اسکرین گریب
ڈاکٹر عارف علوی نے ٹوئٹ میں جامعۃ الازہر کے فتویٰ کی تفصیلات بھی شیئر کیں — فائل فوٹو / اسکرین گریب

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک کے علمائے کرام سے پنجگانہ اور جمعہ کی نمازوں کی باجماعت ادائیگی روکنے کی درخواست کردی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر صدر مملکت کے صدارتی اکاؤنٹ سے کی گئی ٹوئٹ میں کہا گیا کہ 'میں جامعہ الازہر کے مفتی اعظم اور سپریم کونسل کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران مساجد میں جماعت اور جمعہ کی نماز کے سلسلے میں رہنمائی فراہم کرنے کی میری درخواست کا جواب دیا۔'

ٹوئٹ میں علما کے لیے فتویٰ کی تفصیل بھی شیئر کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی نے اسلام آباد میں تعینات مصر کے سفیر کے ذریعے شیخ الازہر سے کورونا وائرس کی وبا کے سلسلے میں مذہبی فرائض کی ادائیگی کے حوالے سے رہنمائی کی درخواست کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: مساجد میں نماز کے اجتماعات پر پابندی سے متعلق حکومت تذبذب کا شکار

اس سلسلے میں جامعۃ الازہر کے علما کی سپریم کونسل نے مصدقہ طبی معلومات اور انسانی زندگی کے تحفظ کے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے باجماعت اور جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے باضابطہ فتویٰ جاری کردیا ہے۔

فتویٰ میں قرار دیا گیا ہے کہ تمام شواہد واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوامی اجتماعات بشمول باجماعت نماز کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں، مسلمان ممالک میں سرکاری حکام کو باجماعت و جمعہ کی نمازوں کو منسوخ کرنے کا پورا اختیار ہے، اس سلسلے میں درپیش حالات کو مدنظر رکھا جائے۔'

صدارتی سیکریٹریٹ کے مطابق فتویٰ میں مزید کہا گیا کہ مؤذن کو (گھروں میں نماز ادا کریں) کے ساتھ ترمیم شدہ اذان دینی چاہیے جبکہ اہلخانہ اپنے گھروں میں باجماعت نماز کا اہتمام کر سکتے ہیں۔

فتویٰ میں احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ وبا بارش سے زیادہ خطرناک ہے اس لیے باجماعت اور جمعہ کی نمازوں پر پابندی کی اجازت ہے۔

بعد ازاں صدر مملکت نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کرتے ہوئے علما سے درخواست کی کہ وہ قرآن اور سنت کے اصولوں کے مطابق کورونا وائرس کے پاکستان میں پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز کراچی میں مختلف مکاتب فکر کے جید علما کا اجتماع منعقد ہوا تھا۔

اجتماع کے بعد پریس کانفرنس میں مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 'علما نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مساجد کھلی رہیں گی، پنجگانہ اذان، اقامت اور باجماعت نماز جاری رہے گی، تمام نمازی گھر سے وضو کرکے آئیں اور ہر قدم پر اللہ کی طرف سے نیکیاں پائیں، سنتیں گھر پر ادا کریں، اگر طبی وجوہات کی بنا پر حکومت نمازیوں کی تعداد پر پابندی عائد کرے یا خاص عمر کے افراد کو مسجد جانے سے منع کرے تو شرعاً وہ معذور سمجھے جائیں گے۔’

مزید پڑھیں: کورونا وائرس سے نجات کیلئے پوری قوم توبہ کی طرف متوجہ ہو، علمائے کرام

ان کا کہنا تھا کہ ‘جن میں وائرس کا شبہ ہو یا علامات پائی جائیں، 50 سال سے زائد عمر کے لوگ اور ایسے افراد کے امراض اس وائرس سے بڑھ جانے کا خطرہ ہو وبا کے پورے دور میں وہ مساجد نہ آئیں انہیں ترک جماعت کا گناہ نہیں ہوگا۔’

تاہم اسی پریس کانفرنس کے دوران فقہ جعفریہ کے علامہ شہنشاہ نقوی نے کہا کہ اکابرین، ائمہ مساجد، علما اور ذاکرین سے مکمل ہم آہنگی کے بعد اعلان کیا جاتا ہے کہ نماز جماعت، جمعہ اور دیگر مذہبی و عقیدتی اجتماعات کے انعقاد کو روک دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مساجد و امام بارگاہیں کھلی رہیں گی، احباب انفرادی عبادت کریں اور ماہرین کی آرا پر عمل کریں۔

خیال رہے کہ وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) جمعرات سے علمائے کرام کے ساتھ اس حوالے سے مشاورت کا آغاز کرے گی کہ کیا نوول کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جہاں ملک میں لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے وہاں نماز گھروں میں ادا کی جاسکتی ہے؟

ایک جانب وائرس سے لڑتے تقریباً تمام مسلمان ممالک نے کسی استثنٰی کے بغیر مساجد میں نماز کی جماعت پر پابندی عائد کردی ہے وہیں پاکستان میں حکام ملک میں صحت کے نظام اور معیشت کے لیے خطرہ بننے والی اس وبا کی روک تھام کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے کے باوجود اس معاملے پر اب تک ایک واضح راہ اختیار نہیں کرسکے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور ملک میں مجموعی متاثرین کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

ملک میں سب سے زیادہ کیسز سندھ میں سامنے آئے ہیں جہاں تعداد 413 ہے جبکہ اس کے بعد پنجاب میں 312 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔