شعبان کا چاند نظر آگیا، شب برات 8 اپریل کو ہوگی

اپ ڈیٹ 25 مارچ 2020

ای میل

شب برات 8اپریل کی رات کو ہوگی—فائل/فوٹو: اے ایف پی
شب برات 8اپریل کی رات کو ہوگی—فائل/فوٹو: اے ایف پی

ہجری سال 1441 کے مہینے شعبان کا چاند نظر آگیا اور شب برات 8 اور 9 اپریل کی درمیانی شب کو ہوگی۔

وزارت مذہبی امور کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے چاند کی رویت کا اعلان کردیا ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق یکم شعبان 26 مارچ (جمعرات) کو ہوگی جبکہ شب برات 8 اور 9 اپریل کی درمیانی شب کو ہوگی۔

مزید پڑھیں:کورونا وائرس سے نجات کیلئے پوری قوم توبہ کی طرف متوجہ ہو، علمائے کرام

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے باعث دو روز قبل شب معراج کے موقع پر بھی ہر سال کی طرح اجتماعات منعقد نہیں ہوسکے تھے۔

دوسری جانب کراچی میں مختلف مکاتب فکر کے معروف و جید علمائے کرام کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہے جس سے نجات کے لیے پوری قوم توبہ و استغفار کی طرف متوجہ ہو۔

گورنر ہاؤس میں دیگر علمائے کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ‘علمائے کرام کے اجتماع نے اتفاق کیا ہے کہ پوری قوم توبہ و استغفار کی طرف متوجہ ہو، حکومت اپنے اداروں کے ذریعے لوگوں کو استغفار کی طرف متوجہ کرے اور میڈیا کے ذریعے فحاشی اور بے حیائی کے پروگرام بند کیے جائیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘علما نے اتفاق کیا کہ مساجد کھلی رہیں گی، پنجگانہ اذان، اقامت اور باجماعت نماز جاری رہے گی، تمام نمازی گھر سے وضو کرکے آئیں اور ہر قدم پر اللہ کی طرف سے نیکیاں پائیں، سنتیں گھر پر ادا کریں، اگر طبی وجوہات کی بنا پر حکومت نمازیوں کی تعداد پر پابندی عائد کرے یا خاص عمر کے افراد کو مسجد جانے سے منع کرے تو شرعاً وہ معذور سمجھے جائیں گے’۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس: پاکستان کے مختلف شہروں میں عشا کے بعد بیک وقت اذانیں

ان کا کہنا تھا کہ ‘جن میں وائرس کا شبہ ہو یا علامات پائی جائیں، 50 سال سے زائد عمر کے لوگ اور ایسے افراد کے امراض اس وائرس سے بڑھ جانے کا خطرہ ہو وبا کے پورے دور میں وہ مساجد نہ آئیں انہیں ترک جماعت کا گناہ نہیں ہوگا’۔

مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ‘جو نوجوان بزرگوں کی تیمارداری میں مصروف ہیں وہ نماز گھر پر ادا کریں، مساجد سے قالین ہٹا کر فرش کو دھونے اور صاف ستھرا رکھنے کا اہتمام کریں، مساجد کے داخلی دروازوں پر سینیٹائزر لگائیں اور جمعہ کی نماز میں عمومی اردو تقریر کی بجائے صرف 5 منٹ کے لیے کورونا وائرس سے متعلق دینی و طبی رہنمائی فراہم کی جائے اور مختصر خطبے، نماز اور دعا پر اکتفا کیا جائے اور فوراً گھروں کو چلے جائیں۔’

انہوں نے کہا کہ ‘جن حضرات کو ڈاکٹرز یا حکومت کی ہدایت پر جمعہ کی نماز میں شرکت سے روکا جائے وہ گھر پر ظہر کی نماز ادا کریں، وبا سے بچنے کے لیے جمعہ کی نماز میں شریک یا گھروں میں نماز ادا کرنے والے افراد اللہ کی پناہ طلب کریں۔’