وزارت توانائی نے ملک میں پیٹرول کی درآمد روک دی

اپ ڈیٹ 27 مارچ 2020

ای میل

تمام او ایم سیز سے درخواست کی جاتی ہے کہ اپریل 2020 سے اپنی طے شدہ درآمدات روک دیں — فائل فوٹو: رائٹرز
تمام او ایم سیز سے درخواست کی جاتی ہے کہ اپریل 2020 سے اپنی طے شدہ درآمدات روک دیں — فائل فوٹو: رائٹرز

کراچی: وزارت توانائی نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے باعث طلب میں کمی ہونے کی وجہ سے تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو پیٹرول کی درآمد روکنے کی ہدایت کردی۔

ڈائریکٹر جنرل آئل کی جانب سے آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کو ارسال کردہ ہدایات میں کہا گیا کہ ’چونکہ او ایم سیز کے پاس اس صنعت کا اطمینان بخش ذخیرہ ہے اس لیے تمام او ایم سیز سے درخواست کی جاتی ہے کہ (اپریل 2020) سے اپنی طے شدہ درآمدات روک دیں اور ریفائنریز سے لینے والے حصے میں اضافہ کردیں تاکہ ریفائنری کے افعال ایک مناسب سطح پر جاری رہیں‘۔

اس کے ساتھ ہدایات میں یہ بھی کہا گیا کہ ’مزید یہ کہ تمام او ایم سیز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ مطلوبہ مصنوعات کے ذخیرے کے لیے مقامی ریفائنریز کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدوں کو اپڈیٹ یا حتمی شکل دیں۔

یہ بھی پڑھیں: معاشی پیکج: پیٹرولیم مصنوعات اگلے 3 ماہ میں مزید سستی ہوں گی، مشیر خزانہ

اس کے علاوہ ریفائنریز کو بھی یہ ہدایت کی گئی کہ ’اپنی خام تیل کی درآمد روک دیں‘۔

دوسری جانب اسی روز ہی ڈائریکٹر جنرل آئل نے علیحدہ ہدایات جاری کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات اور اس سے متعلق افعال کو ’ضروری خدمات‘ قرار دے دیا۔

ہدایات میں کہا گیا کہ ’اسی کے مطابق ملک میں کام کرنے والی تمام ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ان کے ذیلی ٹھیکیداروں، اہلکاروں، آلات اور گاڑیوں کی نقل و حرکت اور دیگر افعال کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے‘۔

ان ہدایات میں پارکو، آے آر ایل، این آر ایل، بائیکو، پی ایس او، شیل، ٹوٹل پارکو، اٹک پیٹرولیم، ہیسکو، بی انرجی، گیس اینڈ آئل ’ضروری خدمات‘ میں شامل ہیں جن کی سپلائی چین بنا کسی تعطل کے لازمی جاری رہنی چاہیے۔

کیمیکلز کی درآمدات

دوسری جانب محکمہ تجارت نے صحت و تحفظ کے لیے درکار کیمیکلز درآمد کرنے کی منظوری دے دی۔

یہ بھی دیکھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں15 روپے کی فوری کمی کا اعلان

اس حوالے سے امپورٹ پالیسی آرڈر 2016 کے اپینڈکس بی میں ترمیم کے لیے 2 نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔

ایس آر او 257 کے مطابق ایسیٹون، اینتھرینیلیک ایسڈ، ایتھائی ایتھر، ہائیڈروکلورک ایسڈ اور سلفیورک ایسڈ کی تجارتی درآمد کی اجازت دی گئی۔

اسی طرح ایس آر او 258 کے تحت یکم مئی 2020 تک درآمد شدہ کھانے کی اشیا پر اسٹیکر چسپان کرنے کی شرط ختم کردی گئی۔

تاہم ان اشیا کی کلیئرنس کی تصدیق کرنے کے لیے کسی قومی والے ادارے سے حلال سرٹیفکیٹ حاصل ہونا لازم ہے۔