کورونا وائرس:جعلی اکاؤنٹس، کارکے پاور پلانٹ کیسز کے ملزمان کی ضمانت منظور

اپ ڈیٹ 27 مارچ 2020

ای میل

پراسیکیوٹر نے مشتبہ افراد کو ضمانت دینے کی مخالفت کی—فائل فوٹو: ڈان نیوز
پراسیکیوٹر نے مشتبہ افراد کو ضمانت دینے کی مخالفت کی—فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: کورونا وائرس کے پیش نظر جعلی بینک اکاؤنٹس، کارکے رینٹل پاور، مضاربہ فراڈ ریفرنس کا سامنا کرنے والے 24 ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی گئی۔

سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی اور معروف بینکر حسین لوائی، کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیاقت علی قائم خانی، کے ایم سی کے سابق ڈائریکٹرز نجم الزمان اور جمیل احمد، بزنس مین ڈاکٹر دنشا ہوشنگ انکل سریہ اور آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر کے بیٹے مصطفیٰ ذوالقرنین سمیت دیگر کی ضمانت منظور کی گئی۔

مزیدپڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے مریض کی آپ بیتی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ملزمان کی ضمانت منظور کی۔

تمام 27 انڈر ٹرائل قیدیوں (یو ٹی پیز) نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے توسط سے درخواستیں داخل کیں جنہیں آئینی درخواستوں میں تبدیل کردیا گیا۔

واضح رہے کہ عدالت نے مذکورہ درخواستوں کو 24 مارچ کو سماعت کے لیے منظور کیا لیکن قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست پر ان کی سماعت کو ملتوی کردیا گیا کیوں کہ نیب کے پراسیکیوٹر ان معاملات میں بحث کرنے کو تیار نہیں تھے۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے نیب پراسیکیوٹر جنرل سید اصغر حیدر کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے میں دلائل کے لیے عدالت میں پیش ہوں۔

اس پر نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل حسن اکبر عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد ہائیکورٹ کی سماعت میں شرکت کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ ملک کے مختلف علاقوں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاہور میں پھنس چکے ہیں۔

مزیدپڑھیں: مضاربہ اسکینڈل میں مطلوب ملزم متحدہ عرب امارات سے گرفتار

تاہم انہوں نے نیب کے ان ملزمان کو ضمانت دینے کی مخالفت کی۔

واضح رہے کہ اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق جیل میں 2 ہزار 174 قیدیوں کی گنجائش برخلاف 5 ہزار سے زائد قیدی رکھے گئے ہیں۔

حسن اکبر نے کہا کہ تمام یوٹی پیز کو ضمانت دینے کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس سے اسکریننگ کے لیے کہا جائے اور صرف متاثرہ ملزمان کو رہا کیا جائے۔

اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے اور اس کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے، کورونا وائرس کو وبائی بیماری قرار دے دیا گیا ہے'۔

انہوں نے استفسار کیا کہ ’کیا جیل میں کوئی قرنطینہ مرکز ہے جہاں ایک مشتبہ مریض کو رکھا جاسکتا ہے؟'، جس پر حسن اکبر نے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ انہیں ضمانت کی منظوری کی مخالفت کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

علاوہ ازیں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کہ قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) میں بدعنوانی کی زیادہ سے زیادہ سزا کیا ہے تو پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ سزا 14 سال قید ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کووڈ 19 کے پہلے مریض سے ایک ہزار تک کا سفر

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ خطرہ ہے کہ مشتبہ افراد جن میں زیادہ ترعمر رسیدہ افراد ہیں مہلک وائرس کا نشانہ بن سکتے ہیں‘، مزید برآں مجرم ثابت نہ ہونے تک ملزم بے قصور سمجھا جاتا ہے۔

دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں بھی حکومت نے ایسے اقدامات اٹھائے اور ایسے حالات میں قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

ساتھ ہی چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ بدقسمتی ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے آئینی عدالتوں کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب ملزمان کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کرنے کے لیے اقدامات کرسکتا ہے لیکن انہیں پہلے سے بھری جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔

بعد ازاں حسب اکبر نے دلیل پیش کی کہ کم از کم 3 درخواست گزار اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں کیونکہ ان کے کیسز راولپنڈی کی احتساب عدالت میں زیر التوا ہیں۔


یہ خبر 27 مارچ 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی