کورونا وائرس: وزیراعلیٰ بلوچستان کا وفاقی حکومت پر مدد فراہم نہ کرنے کا الزام

اپ ڈیٹ 31 مارچ 2020

ای میل

وزیراعلیٰ پلوچستان جام کمال خان - فوٹو: فیس بک
وزیراعلیٰ پلوچستان جام کمال خان - فوٹو: فیس بک

کوئٹہ: وزیراعلیٰ پلوچستان جام کمال خان نے وفاقی حکومت، نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور دیگر صوبائی حکومتوں پر ایران سے واپس آنے والے زائرین کی تفتان بارڈر پر موجود قرنطینہ سینٹرز میں منتقلی سے بلوچستان میں پیدا ہونے والی صورتحال پر مطلوبہ مدد فراہم نہ کرنے کا الزام لگادیا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ جام کمال کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے بارڈر پر صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنے وسائل کا استعمال کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تفتان بارڈر پر صورتحال سے نمٹنے کے لیے ابھی تک وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی مالی مدد نہیں ملی جبکہ این ڈی ایم اے نے اب تک صرف 1200 خیمے، کمبل اور پلاسٹک شیٹس مہیا کیں۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان کی حکومت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے جانے والے انتظامات کے لیے اب تک 2 ارب روپے جاری کرچکی ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ، پنجاب، گلگت، اسلام آباد میں مزید 95 کیسز، ملک میں متاثرین کی تعداد 1870 ہوگئی

اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی، وزیر داخلہ ضیااللہ لانگو، سیکریٹری صحت وحید مدثر ملک، انفارمیشن سیکریٹری عرفان شاہ اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر عمران زرخون بھی موجود تھے۔

وزیر اعلیٰ کے مطابق ایران میں کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق کے بعد سے ان کی حکومت ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پہلے مرحلے میں ہی ہم نے ایران کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کردی تھیں‘۔

انہوں نے کہا کہ معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے بلوچستان حکومت نے حفاظتی انتظامات کیے۔


یہ خبر 31 مارچ 2020 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی