وزیراعظم کی آئی ڈی پیز، افغان مہاجرین کیلئے ریلیف پیکج تیار کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ اپريل 01 2020

ای میل

وزیراعظم نے گزشتہ ہفتے ریلیف پیکج کا اعلان کیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
وزیراعظم نے گزشتہ ہفتے ریلیف پیکج کا اعلان کیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

وزیر اعظم عمران خان نے افغان مہاجرین اور مقامی سطح پر بے گھر ہونے والے افراد (آئی ڈی پیز) کے لیے ریلیف پیکج تیار کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔

وزارت نارکوٹکس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 'نارکوٹکس کے وزیر شہریار آفریدی کی درخواست پر وزیر اعظم عمران خان نے حکام کو کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے افغان مہاجرین اور آئی ڈی پیز کے لیے ریلیف پیکج تیار کرنے کی ہدایات دیں'۔

اعلامیے کے مطابق وزیر نارکوٹس و سیفران شہریار آفریدی نے کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم سے اس حوالے سے ریلیف پیکج کا مطالبہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں:ملک میں کورونا وائرس کے اثرات: وزیراعظم نے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا

شہریار آفریدی نے افغان مہاجرین اور آئی ڈی پیز کے معاملے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 28 لاکھ مہاجرین پاکستان بھر میں قائم 52 مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 80 ہزار مہاجرین روانہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور یہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ اس ضرورت کے وقت میں افغان مہاجرین کی مدد کرے۔

اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ 'آئی ڈی پیز نے پاکستان کی خاطر اپنے گھروں کو چھوڑا تھا اور پاکستان بھی انہیں اس امتحان کے موقع پر تنہا نہیں چھوڑے گا'۔

وزارت نارکوٹکس کا کہنا ہے کہ 'وزیراعظم عمران خان نے غریبوں کے لیے اعلان کردہ 200 ارب روپے کے فنڈ سے آئی ڈی پیز اور افغان مہاجرین کے لیے بھی فنڈ مختص کرنے کی ہدایت کی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ہنگامی فنڈ کی منظوری دے دی گئی

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر شہریار آفریدی نے شاہد آفریدی کی مدد سے کوہاٹ میں قائم افغان مہاجرین کے کیمپ میں راشن تقسیم کیا۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ وہ قبائلی علاقوں کے ساتوں اضلاع، بلوچستان، کراچی میں قائم افغان مہاجر کیمپ، حیدر آباد، میانوالی کا دورہ کریں گے اور دیہاڑی دار افراد میں راشن تقسیم کریں گے۔

قبل ازیں وفاقی کابینہ نے حکومت کے معاشی پیکج کی منظوری دی جس کا باقاعدہ اعلان وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور حماد اظہر نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

اسد عمر نے اس حوالے سے کہا کہ 'کورونا کا مسئلہ وفاقی حکومت یا کسی خاص صوبائی حکومت کا مسئلہ نہیں ہے، یہ کسی ایک ملک کا بھی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے تو تمام فیصلے مل کر اور مربوط طریقے سے کرنے کے لیے قومی رابطہ کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کے 5 اجلاس ہوچکے ہیں'۔

وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے وفاقی کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 'چند روز قبل حکومت نے معاشی ریلیف پیکج کا اعلان کیا تھا، گزشتہ روز اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پیکج کی منظوری دی تھی، آج کابینہ نے بھی اس پیکج کی منظوری دے دی ہے'۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ نے بھی 'معاشی ریلیف پیکج' کی منظوری دے دی

انہوں نے کہا کہ 'اس پیکج میں دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے 200 ارب روپے رکھے گئے ہیں، صنعتوں کے قرضوں کے سود کی ادائیگیوں کے لیے 6 ماہ کی تاخیر کے انتظامات کیے گئے ہیں، مستحق افراد کی تعداد بڑھانے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں، یوٹیلیٹی اسٹورز کے لیے 50 ارب روپے رکھے گئے ہیں، گندم کی خریداری کے لیے ریکارڈ 280 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی اور بجلی و گیس کے بلوں کی ادائیگی میں تاخیر کے لیے بندوبست کیا گیا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان لاک ڈاؤن میں ہے، اس معاشی ریلیف پیکج کے ذریعے ہمیں روز مرہ کی اشیا کی پیداوار اور ترسیل کو یقینی بنانا ہے'۔

یاد رہے کہ 24 مارچ کو وزیراعظم عمران خان نے ملک میں عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلنے کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں میں آنے والے تعطل اور اس کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے عوام اور مختلف شعبوں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا تھا۔

ریلیف پیکج کے اہم انکات میں مزدور طبقے کے لیے 200 ارب روپے، ایکسپورٹ اور انڈسٹری کے لیے 100 ارب روپے، غریب خاندانوں کے لیے 150 ارب روپے اور 3 ہزار روپے فی گھرانہ دینے کا اعلان شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایک کروڑ غریب افراد کو یکمشت 12 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ

وزیر اعظم کے پیکج میں یوٹیلٹی اسٹورز کے لیے 50 ارب روپے، گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے 280 ارب روپے، پیٹرولیم مصنوعات میں فی لیٹر 15روپے کمی، بجلی، گیس کے بل 3 ماہ کی اقساط میں ادا کرنے کا ریلیف، میڈیکل ورکرز کے لیے 50 ارب روپے شامل تھے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اشیائے خورونوش پر ٹیکسز میں کمی، ایمرجنسی صورتحال کے لیے 100 ارب روپے، نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ خطرہ آج ہمیں کورونا سے نہیں بلکہ کورونا سے خوف میں آکر غلط فیصلے کرنے سے ہے کیونکہ ہم جو بھی فیصلہ کرتے ہیں اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔