کورونا وائرس سے مکمل آزاد ہیں، شمالی کوریا کا اصرار

اپ ڈیٹ 02 اپريل 2020

ای میل

شمالی کوریا اپنے کمزور طبی نظام اور عالمی پابندیوں کی وجہ سے کورونا وائرس کے خلاف خصوصی طور پر غیر محفوظ ہے، ماہرین — فائل فوٹو / رائٹرز
شمالی کوریا اپنے کمزور طبی نظام اور عالمی پابندیوں کی وجہ سے کورونا وائرس کے خلاف خصوصی طور پر غیر محفوظ ہے، ماہرین — فائل فوٹو / رائٹرز

شمالی کوریا نے عالمی سطح پر شکوک و شبہات کے باوجود ایک بار پھر اصرار کیا ہے کہ ان کا ملک کورونا وائرس سے مکمل آزاد ہے۔

دنیا میں پہلے سے تنہا اور جوہری ہتھیار کے حامل ملک نے پڑوسی ملک چین میں وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد جنوری میں ہی اپنی سرحدیں بند کردی تھیں اور ملک کو وائرس سے بچانے کے لیے سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے انسداد وبا مرکزی ہنگامی ہیڈکوارٹرز کے ڈائریکٹر پاک یونگ سو نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے یہ کوششیں مکمل طور پر کامیاب رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'اب تک ملک میں ایک شخص بھی اس وائرس کا شکار نہیں ہوا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے پیشگی اور سائنسی اقدامات اٹھائے تھے جن میں ملک میں داخل ہونے والے تمام لوگوں کی چھان بین اور انہیں قرنطینہ کرنا، تمام چیزوں کو جراثیم سے پاک کرنا، سرحدیں بند کرنا اور سمندری اور فضائی راستے بند کرنا شامل ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وبا دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں پھیل چکی ہے اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا گزشتہ روز کہنا تھا کہ دنیا بھر میں لگ بھگ 10 لاکھ افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کی جانب سے دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ

چین کے علاوہ جنوبی کوریا بھی اس وبا سے بُری طرح متاثر ہوا ہے جس کے باعث نیا بھر میں اب تک 45 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اپنے کمزور طبی نظام اور عالمی پابندیوں کی وجہ سے کورونا وائرس کے خلاف خصوصی طور پر غیر محفوظ ہے، عالمی پابندیوں کے باعث ملک میں خوراک کی کمی بھی پائی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق شمالی کوریا کے ایک کروڑ 3 لاکھ افراد یعنی تقریباً نصف آبادی ضرورت مند ہے اور 41 آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔

مارچ میں شمالی کوریا کے سپریم رہنما کم جونگ اُن نے جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن کو ذاتی طور پر لکھا تھا جس سے کئی ماہ کی سفارتی خاموشی ٹوٹی تھی۔

اگرچہ خط کا متن سامنے نہیں آیا تاہم مون اِن کے سینئر پریس سیکریٹری کا کہنا تھا کہ خط میں جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے پر سخت تشویش ظاہر کی گئی تھی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا تھا۔

جنوبی کوریا میں امریکی کے اعلیٰ عسکری کمانڈر جنرل روبرٹ اَبرامز کا گزشتہ ماہ کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا بڑی حد تک یقین ہے کہ شمالی کوریا میں وائرس کے مصدقہ کیسز ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باوجود شمالی کوریا کا 2 میزائلوں کا تجربہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ شمالی کوریا کسی صورتحال سے گزر رہا ہے اور کم جونگ اُن کے نام خط میں وبا کے خلاف مل کر کام کرنے کی پیشکش کی تھی۔

پیانگ یانگ نے، جس پر جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کی وجہ سے متعدد بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں، وائرس سے متعلق امداد کا مطالبہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ ایک طرف دنیا جہاں کورونا وائرس سے نبرد آزما ہے تو دوسری جانب شمالی کوریا نے چند روز قبل اپنے مشرقی ساحل پر کم رینج کے حامل دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جہاں ایک جانب دنیا کورونا وائرس کے سبب مشکلات سے دوچار ہے تو ایسے موقع پر شمالی کوریا کی جانب سے اس طرح کی فوجی کارروائیاں انتہائی نامناسب ہیں۔

گزشتہ ہفتے بھی پیان یانگ کی جانب سے دو میزائل کے تجربات کیے گئے تھے جنہیں کم رینج کے حامل میزائل قرار دیا گیا تھا۔