وزارت اطلاعات نے 6 ہزار 'ڈمی پیپرز' کو ڈی نوٹیفائی کردیا

اپ ڈیٹ 04 اپريل 2020

ای میل

ملک میں چلنے والے پرنٹنگ پریس کی تازہ فہرست مرتب کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
ملک میں چلنے والے پرنٹنگ پریس کی تازہ فہرست مرتب کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: وفاقی وزارت اطلاعات نے 6 ہزار سے زائد ڈمی اخبارات کی نشاندہی کے بعد انہیں ڈی نوٹیفائی کردیا۔

علاوہ ازیں آفس پریس رجسٹرار نے 15 اپریل تک اخبار چھاپنے والوں کو ریگولیٹری ہدایت پر عملدرآمد کی ڈیڈ لائن دے دی۔

مزیدپڑھیں: ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس کو پریس فریڈم ایوارڈ سے نواز دیا گیا

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ پوری میڈیا انڈسٹری کو ہموار کرنے اور اس کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کا عمل مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ دور حکومت میں شروع کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کا ہدف اس چَین میں کرپشن اور ابہام کو ختم کرنا ہے کیونکہ ایک بڑی تعداد میں وزارت کے ملازمین بھی اس چَین کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات میں اعتراف کیا تھا کہ ان کی وزارت کے افسران ڈمی پیپر کو اشتہارات دینے میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کے پاس ملک بھر میں تقریباً 4 ہزار 200 روزنامچوں اور ہفت روزہ اخبارات کا اندراج ہے، جن کی مجموعی اشاعت 2 کروڑ کے قریب ہے جبکہ تمام علاقائی روزناموں اور ہفت روزہ کی گنتی کی جائے تو مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: 2018 آئی لینڈ آف فریڈم ’کراچی پریس کلب‘پر حملے کا سال

دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد پریس رجسٹرار نے ملک میں چلنے والے پرنٹنگ پریس (چھاپہ خانوں) کی تازہ فہرست مرتب کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزارت اطلاعات کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ڈمی اخبارات کی دو اقسام ہیں، پہلی قسم کے تحت اخبار کا نام حاصل کرنے کے بعد سرمایہ داروں سے بات چیت کرکے سرمایہ حاصل کیا جاتا ہے لیکن وہ باقاعدہ طباعت نہیں ہوتا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈمی پیپرز کی دوسری قسم میں صرف اشتہارات ملنے پر ان کی مخصوص تعداد میں اشاعت ہوتی ہے۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ اس طرح کی اشاعت کو چیک کرنے کا بہترین طریقہ ان کی پرنٹنگ پریس کے معاملات ہموار کرنا تھا اور حالیہ اقدام سے یہ ظاہر ہوا کہ کچھ پریس بڑی تعداد میں پرنٹنگ کرتے ہیں لیکن ان میں اتنی صلاحیت بھی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: میڈیا ہاؤسز کو ’بزنس ماڈل‘ کی تبدیلی کا مشورہ کیوں؟

واضح رہے کہ پریس رجسٹرار نے پریس، نیوز پیپر، نیوز ایجنسی اینڈ بک رجسٹریشن آرڈیننس 2002 کے تحت پرنٹنگ پریس سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے تمام ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ لکھ دیا ہے۔

اس ضمن میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے کہا کہ سرکاری اشتہاروں کی بنیاد پر ڈمی اخبارات کا خاتمہ پی ایف یو جے کا درینہ مطالبہ تھا۔

پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے کہا کہ تاہم ہماری پریشانی یہ ہے کہ پرنٹنگ پریس کو ہموار کرنے کے اقدام میں کوئی سیاسی مقصد یا میڈیا کی آزادی کو دبانے کا باعث نہیں ہونا چاہیے۔