امریکی صدر نے کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا

اپ ڈیٹ 05 اپريل 2020

ای میل

امریکی صدر کی وبا سے متعلق بریفنگ - فائل فوٹو: اے پی
امریکی صدر کی وبا سے متعلق بریفنگ - فائل فوٹو: اے پی

جہاں دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز 12 لاکھ سے تجاوز کرگئے ہیں وہیں دنیا میں اس کے سب سے زیادہ کیسز امریکا میں سامنے آئے جس پر امریکی صدر نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ ملک سب سے مشکل ترین ہفتے میں داخل ہورہا ہے۔

وبا سے متعلق اپنی روزانہ کی بریفنگ کے آغاز میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہلاکتیں ہوں گی، بد قسمتی سے بہت زیادہ ہلاکتیں ہوں گی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ملک ایسا نہیں تھا کہ اسے کبھی بند کیا جاسکے تاہم علاج مسئلے سے زیادہ برا نہیں ہوسکتا‘۔

خیال رہے کہ امریکا میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 3 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ ہلاکتیں 8 ہزار 400 ہوچکی ہیں جن میں سے 3 ہزار 500 سے زائد ہلاکتیں صرف ایک امریکی ریاست نیو یارک میں ہوئی ہیں جو امریکا میں وائرس کا مرکز بنا ہوا ہے۔

یورپی ممالک کے بحران کے انتہا پر پہنچنے کا خدشہ

کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک اٹلی اور اسپین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے ممالک میں کورونا وائرس کے باعث جاری بحران اپنی انتہا کو پہنچ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد، پنجاب، گلگت میں کورونا وائرس کے مزید 79 کیسز، تعداد 2879 تک پہنچ گئی

اطالوی حکام نے کہا کہ انفیکشن اس وقت اپنی انتہا پر ہے مگر کم نہیں ہورہا جس کی وجہ سے ایمرجنسی کا وقت ختم ہونا ابھی مشکل نظر آیا ہے۔

دوسری جانب اٹلی میں نئے انفیکشنز کی شرح کم ہوگئی ہے جہاں ہفتے کے روز 4 ہزار 805 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار 632 ہوگئی جبکہ ہلاکتوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ 15 ہزار 362 ہے۔

اسپین، جہاں اسی طرح کے انفیکشنز کی تعداد بہت زیادہ ہے، وزیر اعظم پیدرو سانچیز کا کہنا تھا کہ ان کی قوم کو ’سرنگ کے دوسرے حصے میں روشنی نظر آنے لگی ہے‘۔

ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو ماہرین کا ماننا ہے کہ اسپین میں آنے والے وقت میں وبا کم ہوجائے گی۔

کورونا وائرس سے متعلق عالمی تشویش ریکارڈ سطح پر، آئی ایم ایف

کورونا وائرس کے دنیا بھر میں پھیلاؤ سے بیماریوں اور آمدنی کے نقصان کے خوف سے پوری دنیا میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: پی ٹی اے کا انٹرنیٹ فراہم کنندہ کو سستے پیکجز متعارف کرانے کی ہدایت

وبائی امراض اور دیگر بیماریوں کے وبا سے متعلق غیر یقینی صورتحال پر اٹھائے گئے نئے اقدامات سے معلوم ہوا ہے کہ کورونا وائرس کی غیر یقینی صورتحال میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہوگیا ہے اور یہ اس سے قبل سامنے آنے والی وباؤں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔

کووِڈ 19 انسانی جذبے کا امتحان ہے، انتونیو گوترس

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ کووِڈ 19 نہ صرف صحت کے عالمی نظام کے لیے خطرہ ہے بلکہ انسانی جذبے کا امتحان بھی ہے۔

ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اتوار کا دن ضمیر کا عالمی دن ہے، آئیں جانیں بچانے کے لیے مشترکہ انسانیت پر توجہ دیںِ ضرورت مند افراد کی مدد کریں اور سب کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کریں۔

چینی حکومت کا نیو یارک کے لیے ایک ہزار وینٹی لیٹرز کا عطیہ

نیو یارک کے گورنر کا کہنا ہے چینی حکومت ان کی ریاست کے لیے عطیہ کیے گئے ایک ہزار وینٹی لیٹرز کی شپمنٹ میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ مذکورہ بحران کی صورت میں امریکی حکومت کے طبی اشیا کے ذخیرے میں قلت پیدا ہوجائے گی۔

پرتگال میں کیسز میں اضافہ، 5 لاکھ لوگوں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

پرتگال میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ سرکاری ڈیٹا میں بتایا گیا کہ 5 لاکھ افراد اس وبا کی وجہ سے عارضی طور پر بے روزگار ہوسکتے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وزیر صحت مارٹا تمیدو کا کہنا تھا کہ ’یہ لڑائی 100 میٹر کی ریس نہیں بلکہ ایک طویل میراتھن ہے‘۔

انہوں نے شہریوں سے اس لڑائی میں شرکت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’اب بھی سرنگ کے دوسری جانب کوئی روشنی دکھائی نہیں دے رہی‘۔

برازیل میں ’جنگی بجٹ‘ منظور

برازیل میں کیسز کی تعداد 10ہزار سے تجاوز کرنے پر کانگریس کے ایوان ذیلی میں کورونا وائرس سے متعلق اخراجات کو حکومتی بجٹ سے علیحدہ کرنے اور معیشت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ’جنگی بجٹ‘ منظور کرلیا گیا۔

اس بجٹ کو اب بھی سینیٹ سے منظور کیا جانا باقی ہے جو آئندہ ہفتے ہوگا۔

آسٹریلیا میں وائرس کا پھیلاؤ سست، نگرانی پر زور

آسٹریلیا کے متعدد صحت حکام کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں سست روی سے پراُمید ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ سماجی دوری کی پابندی مہینوں تک جاری رہے گی۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نیو ساؤتھ ویلز (این ایس ڈبلیو) کے ڈائریکٹر آف ہیلتھ پروٹییکشن جیریمی مک انلٹی کا کہنا تھا نئے کیسز کی تعداد میں کمی سے اُمید بڑھ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پر امید ہونا بھی چاہتے ہیں‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال چین سے پھیلنے والے وائرس کے دنیا بھر میں اب تک 12 لاکھ 3 ہزار 99 کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں 64 ہزار 774 ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔

جہاں اس وائرس سے اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں سامنے آئیں ہیں وہیں کورونا وائرس سے اب تک دنیا بھر میں 2 لاکھ 46ہزار 893 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔