نیو یارک میں چڑیا گھر کی شیرنی بھی کورونا وائرس کا شکار

اپ ڈیٹ 06 اپريل 2020

ای میل

کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکا کی سب سے زیادہ متاثرہ ریاست نیویارک کے چڑیا گھر کی ایک شیرنی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئی۔

نیویارک شہر اس وقت کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے، جہاں پر مریضوں کی تعداد سوا ایک لاکھ سے زائد جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار تک جا پہنچی ہے۔

صرف نیویارک شہر کے ہی متاثرہ افراد یا ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بھی چین میں متاثر ہونے اور ہلاک ہونے والے لوگوں سے زیادہ ہوچکی ہے۔

نیویارک سمیت امریکا بھر میں 6 اپریل کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 3 لاکھ 37 ہزار جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 9 ہزار 600 سے زائد ہو چکی تھی۔

اسی طرح دنیا بھر میں 6 اپریل کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 12 لاکھ 76 ہزار سے زائد جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 69 ہزار سے متجاوز ہو چکی تھی۔

دنیا بھر میں کورونا سے جہاں انسان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، وہیں اس وبا سے جانور بھی متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ کورونا سے بلیاں، کتے، مرغے و مرغیاں، سوئر اور دیگر جانور بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کتے، بلیاں اور بطخیں بھی کورونا کا شکار بن سکتی ہیں، تحقیق

جہاں گزشتہ ماہ یورپ میں دنیا میں پہلی بلی میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی، وہیں اب امریکا میں دنیا کی پہلی شیرنی میں بھی کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق نیویارک کے برونکس زو کی شیرنی میں کورونا وائرس جیسی علامات ظاہر ہونے کے بعد اس کا ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا کا شکار ہونے والی شیرنی کی عمر 4 سال ہے اور اس کے ساتھ ہی چڑیا گھر کے دیگر 5 جانور بھی بیمار پڑ گئے ہیں اور ان میں بھی کورونا جیسی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئی ہیں تاہم ان میں سامنے آنے والی علامات شدید نہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دیگر بیمار جانوروں کا بھی ٹیسٹ کیا گیا، مگر ان میں کورونا کی تشخیص نہیں ہوئی۔

چڑیا گھر کے منتظمین کا کہنا تھا کہ کورونا کا شکار ہونے والی شیرنی کا نام نادیہ ہے اور ان کی عمر چار سال ہے اور وہ گزشتہ ایک ہفتے سے بیمار تھیں۔

چڑیا گھر کے عملے کے مطابق شیرنی کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی جب کہ ان میں کورونا میں پائی جانے والی دیگر علامات ظاہر ہوئی تھیں، جس وجہ سے انہیں دوسرے جانوروں سے الگ کرکے ان کا ٹیسٹ کیا گیا۔