کووڈ 19 کی اسکریننگ گھر بیٹھے کرنے والی پاکستانی ایپ تیار

06 اپريل 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے روزانہ اب دنیا بھر میں ہزاروں کیسز سامنے آرہے ہیں جبکہ لاکھوں کروڑوں افراد کو خدشہ یا فکر ہوتی ہے کہ وہ اس کا شکار نہ ہوچکے ہوں۔

اس وائرس کی تصدیق کے لیے ٹیسٹنگ کٹس کی قلت کا سامنا متعدد ممالک کو ہے اور اسی وجہ سے ایسے مریضوں کے ٹیسٹ کو ترجیح دی جاتی ہے جن کی حالت زیادہ خراب ہو۔

پاکستان میں بھی ٹیسٹنگ کا عمل بہت زیادہ بہتر نہیں اور اس کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں، تاہم اس بیماری کی مختلف علامات کا سامنے کرنے والے افراد اس پریشانی کا شکار رہتے ہیں کہ وہ اس کا شکار تو نہیں ہوگئے۔

متعدد ممالک میں آن لائن ایسی اسکریننگ ویب سائٹس اور ایپس کو تیار کیا جارہا ہے ، جہاں لوگ اپنی علامات کے بارے میں جان کر کووڈ 19 میں مبتلا ہونے کے بارے میں جان سکتے ہیں۔

ایسا ہی پاکستان میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) نے بھی کیا ہے اورر ایسی اسکریننگ ایپ متعارف کرائی ہے جو اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز پر کام کرتی ہے۔

اس ایپ میں انگلش اور اردو زبان کے ذریعے لوگ کووڈ 19 کے لیے اپنی اسکریننگ کرسکتے ہیں۔

اسے نسٹ کے نیشنل سینٹر آف روبوٹیکس اینڈ آٹومیشن (این سی آر اے) نے تیار کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اب تک امریکا، برطانیہ، متحدہ عرب امارات سمیت 9 مختلف ممالک میں 8 ہزار سے زائد بار استعمال کیا جاچکا ہے۔

ادارے کے مطابق ہسپتالوں میں مشتبہ مریضوں کی بہت زیادہ تعداد کی وجہ سے ڈاکٹرں کے لیے معیاری طبی سہولیات کی فراہمی مشکل ہوچکی ہے۔

اسی مسئلے کو قابو پانے کے لیے یہ سادہ ایپ تیار کی گئی ہے جس سے لوگ اپنی اسکریننگ خود کرسکتے ہیں، تو لوگ اسے استعمال کریں اور ہسپتالوں کا رخ نہ کریں۔

یہ ایپ اس ویب سائٹ http://www.ncra.org.pk/covid/ پر جاکر ڈائون لوڈ کی جاسکتی ہے۔

سائٹ پر اس کے استعمال کا طریقہ کار بھی دیا گیا ہے جو بہت آسان ہے اور لگ بھگ ہر ایک ہی اسے استعمال کرسکتا ہے۔

اس ایپ میں صارف سے کچھ سوالات پوچھے جائیں گے جن کے جواب پر اندازہ ہوسکے گا کہ وہ کووڈ 19 کا شکار ہے یا نہیں۔

اس سے قبل نسٹ کے عطا الرحمن اسکول آف اپلائیڈ بائیو سائنسز نے کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس بھی تیار کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔

یہ ٹیسٹنگ کٹس درآمدی کٹس کے مقابلے میں سسٹی قرار دی گئی تھی اور یونیورسٹی کے مطابق ان کٹس کی تیاری اس وقت ہوئی ہے جب دنیا میں نوول کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کی رفتار ایسی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی جبکہ سائنسدان اور محققین اس ناقابل علاج مرض کے علاج کے لیے ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔

چین سے درآمد شدہ ایک کٹ کی قیمت تقریباً 8 ہزار روپے ہے جبکہ نسٹ کے سائنسدانوں کی بنائی ہوئی کٹ کی قیمت تقریباً 2 ہزارروپے بتائی گئی ہے۔

نسٹ کے مطابق ان کٹس میں روایتی اور رئیل ٹائم پولیمر چین ری ایکشن (پی سی آر) طریقہ کار شامل ہے، جن کی مدد سے موثر طریقے سے مریضوں کے نمونوں اور لیبارٹری کنٹرولز کو ٹیسٹ کیا جاسکے گا۔

بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اس عالمی وبا کے حوالے سے معلومات تک آسان رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں۔

ایپل کی جانب سے کورونا وائرس کی اسکریننگ کے لیے ویب سائٹ متعارف کرائی گئی۔

فیس بک نے 19 مارچ کو کورونا وائرس انفارمیشن سینٹر نیوزفیڈ پر سب سے اوپر متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔

یہ انفارمیشن سینٹر فیس بک کا نیا فیچر ہے جس کا مقصد وائرس کے حوالے سے حکومتوں اور طبی محققین کی جانب سے فراہم کی جانے والی کارآمد معلومات لوگوں تک پہنچانا ہے جبکہ غلط اطلاعات پھیلنے کی شرح کم از کم کرنا ہے۔

یہ انفارمیشن سینٹر رئیل ٹائم میں اپ ڈیٹ ہوگا، جبکہ عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر آفیشل ذرائع سے نئی معلومات اور تجاویز فراہم کی جائیں گی۔

فیس بک کی زیرملکیت واٹس ایپ نے اپنی ویب سائٹ پر کورونا وائرس سے متعلق مستند معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے واٹس ایپ کورونا وائرس کا پیچ متعارف کرایا، جہاں پر لوگوں کو دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی وبا سے متعلق درست معلومات تک رسائی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

واٹس ایپ کی جانب سے متعارف کرائے گئے کورونا وائرس کی معلومات کے فیچر کو نہ صرف صحت سے متعلق عالمی اداروں کے تعاون سے پیش کیا گیا ہے بلکہ اس فیچر میں درست معلومات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے میسیجنگ ایپلی کیشن نے متعدد فیکٹ چیکر اداروں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ کے کروڑوں صارفین کو درست معلومات کی فراہمی کے لیے عالمی ادارہ صحت نے بھی ایک ہیلتھ الرٹ یا چیٹ بوٹ متعارف کرایا ہے جو اعدادوشمار، مختلف سوالات کے جواب اور دیگر معلومات فراہم کرتا ہے۔

اس مقصد کے لیے +41 79 893 1892 کو فون کانٹیکٹ میں سیو کرکے اس پر hi کا مسیج کردیں، آپ کے سامنے مینیو کھل جائے، جس میں مختلف ایموجیز کے ذریعے مطلوبہ معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔

فیس بک میسنجر میں بھی ایسے ہی انفارمیشن ہب کو متعارف کرایا جاچکا ہے۔